ستر سال سے ملک کے ساتھ یہی کچھ ہوتارہاہے۔ نواز شریف

0
143

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاناما نہیں ، اقامہ پر وزیراعظم کو نکال دیا جاتاہے،2018 کے انتخابات میں عوام فیصلہ کریں گے اہل کون ہے اور نااہل کون۔
پارٹی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعداسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو سیاست سے بیدخل کرنے کی بار بار کوشش ہوتی رہی لیکن پارٹی کارکنان مجھے داخل کراتے رہے۔
نواز شریف نے کہا کہ مجھے نا اہل کیے جانے کی وجہ مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں،مجھے کسی کرپشن یا بدعنوانی کے جرم میں نااہل نہیں کیا گیا،صرف اس جرم میں نااہل کیاکہ نوازشریف نےبیٹےسےتنخواہ کیوں نہیں لی، مجھے عوام کی نمائندگی سے نااہل قرار دےدیاگیا۔تحقیق کرلیں وزارت عظمیٰ کی بھی تنخواہ لیتاتھا یا نہیں شاید کوئی اور فرد جرم بن جائے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ پرویز مشرف نے میرا راستہ روکنے کے لئے کالا قانون بنایا لیکن آج ڈکٹیٹر کا قانون اس کے منہ پر مار دیا ہے جس پر سیاسی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ستر سال سے ملک کے ساتھ یہی کچھ ہوتارہاہے،کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے ملک بحران کا شکار ہوتارہا،وہ کیا اسباب تھے جن کے باعث ہم دوسرے ممالک سے پیچھے رہ گئے،ہم نے اتنے بڑے سانحات سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔جوقومیں پرانی روش پر اڑی رہتی ہیں وقت انکا انتظارکیے بغیر آگے نکل جاتاہے،اگرحالات بدلنے کی کوشش نہ کی توپاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔
جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میںسابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے خلوص کےساتھ ملک کی خدمت کی ہے،ستربرس بعدبھی پی ایم ایل این ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ وکلا کنوشن میں پوچھے بارہ سوالات کے جواب نہیں ملے ،یہ سوالات میرے ساتھ انصاف کی پوری کہانی ہیں،انہوں نے شرکا سے سوال کیا کہ کیا آپ میرے ساتھ مل کر حالات کو بدلنے کی کوشش کریں گے؟
انہوں نے کہا کہ اقتدار نہیں اقدار کی سیاست کرتاہوں،ہم نے کسی کے مینڈیٹ میں آج تک کوئی رخنہ نہیں ڈالا، خیبرپختونخوا میں طاقت کے باوجود مداخلت نہیں کی،ہمیں اب آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔
سابق وزیراعظم نے مزیدکہا کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین نہ کی جائے،اقتدار کے دروازے کی کنجی صرف عوام کے پاس ہو،حکومت وہ کرے جسے عوام ووٹ دیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY