ترکی کے صدر طیب اردوان نے قسم اٹھائی ہے کہ انقرہ، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ڈالر استعمال نہیں کرے گا اور الزام عائد کیا کہ امریکی رویہ ’جنگلی بھیڑیے‘ کی مانند ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ترکی اور روس کو امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

اس سے قبل صدر طیب اردوان کی جانب سے ’ہنگامی بنیادیوں پر‘ روس سے انتہائی حساس نوعیت کا ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کا عندیہ دینے پر نیٹو ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

طیب اردوان نے کہا تھا کہ ’ترکی کو فضائی حدود کے تحفظ کے لیے روسی ساختہ ‘ایس 400 ایس’ کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں معاہدہ طے پا چکا ہے، ہم بہت جلد یہ سسٹم خرید لیں گے۔’

اس حوالے سے ترکی کے صدر نے کہا کہ روس کے ساتھ ڈالر کے علاوہ دوسری کرنسی میں تجارت کی بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کرغیزستان اور ترکی کے صنعت کاروں سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ ’ہمیں ڈالر کے ذریعے تجارت سے نقصان ہورہا ہے، ہم امید نہیں چھوڑیں گے اور کامیابی ضرور ملے گی۔’

SHARE

LEAVE A REPLY