احتساب عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت منظور کرلی، نیب پراسکیوٹر کی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے اور پاسپورٹ ضبط کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی رہائی کا حکم دیا۔ بغیر اجازت ملک چھوڑنے پر بھی پابندی لگا دی۔
مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے سامنے پیش ہوئے اور 50، 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے۔ نیب پراسکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائےاور ان کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے۔ عدالت نے نیب پراسکیوٹر کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی رہائی کا حکم دیا اور مریم نواز کی بھی ضمانت منظور کرلی۔ احتساب عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے بیرون ملک جانے پر مشروط پابندی عائد کی۔
سماعت کے آغاز پر شریف فیملی کے وکیل خواجہ حارث نے جج محمد بشیر کے روبرو یہ دلیل پیش کی کہ نواز شریف پیش ہونے کے لئے تیار تھے، اہلیہ کی طبیعت خراب ہونے کے باعث نہ آسکے، وہ 15 دن کیلئے دستیاب نہیں ہونگے، خواجہ حارث نے کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی جمع کرائی۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔ انہوں نے کہا یقین دہانی کے باوجود نوازشریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ایک آدمی آتا ہے، دوسرا چلا جاتا ہے۔ اس موقع پراحتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کیا نوازشریف کو 15 روز کا استثنیٰ دے دیا جائے۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا استثنیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نوازشریف کے مچلکے بھی ضبط کئے جائیں۔
احستاب عدالت میں پیش ہونے کے بعد مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تحفظات کے باوجود احتساب عدالت میں پیش ہوئے، گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں۔ انہوں نے کہا میرا جرم کیا ہے مجھے اچھی طرح پتہ ہے، قیامت تک ٹرائل چلتے رہیں گے یہ ہماری فتح ہے، پوری دنیا جانتی ہے یہ احتساب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں رضاکارنہ طور پر پیش ہونے والوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا ہر پیشی پر صرف نام پکارا جاتا ہے، عوام کو جوابدہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے انصاف کا تماشہ بنا کر رکھ دیا۔ مریم نواز نے کہا عدالتوں میں پیش نہ ہونے والے لوگ جلسے کر رہے ہیں مگر ان کو گرفتار نہیں کیا جا رہا، ایسے احتساب، ایسے انتقام کے باوجود نواز شریف کے بعد ان کی بیٹی پیش ہوئی جبکہ ان کے داماد گرفتار ہوئے۔ انہوں نے کہا تحفظات کے باوجود احتساب نما انتقام میں پیش ہو رہے ہیں، سزا پانے کے بعد بھی ہمارے خلاف ٹرائل چل رہا ہے اور قیامت تک ٹرائل چلتے رہیں گے یہ ہماری فتح ہے۔ انہوں نے مزید کہا نا اہلیت کے باوجود ٹرائل چل رہا ہے، ویڈیو پوری دنیا نے دیکھی اس میں کیا پیغام تھا سب جانتے ہیں، پاناما پر چلنے والا مقدمہ جب اقامہ پر ختم ہوگا تو سوال اٹھیں گے۔
واضح رہے کیپٹن (ر) صفدر اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ برطانیہ سے قطر ایئرلائن کی پرواز نمبر 632 پر اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچے تو نیب لاہور کی 13 رکنی ٹیم نے تھانہ ائر پورٹ میں اپنی آمد اور روانگی کی باضابطہ رپٹ لکھی اور پنجاب پولیس کی نفری کے ہمراہ رات 12 بجے ائیر پورٹ پہنچ گئی۔ نیب ٹیم کو پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر 4 کانسٹیبل اور ایک لیڈی کانسٹیبل کی معاونت حاصل تھی، کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز کی آمد سے قبل اے ایس ایف نے راول لاؤنج میں داخلے کا اجازت نامہ نہ ہونے پر نیب افسروں کو وہاں جانے سے روک دیا۔ اس موقع پر ائر پورٹ پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، نیب ٹیم نے کیپٹن (ر) صفدر کو راول لاؤنج سے باہر آنے کے بعد رات ایک بج کر 40 منٹ پر حراست میں لیا گیا۔ شریف خاندان کے خلاف کرپشن ریفرنسز میں یہ پہلی بڑی گرفتاری ہے، گرفتاری کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کو نیب راولپنڈی بیورو پہنچا دیا۔ ائرپورٹ پر سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری سینیٹر آصف کرمانی، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، طارق فضل چودھری، ماروی میمن، سائرہ افضل تارڑ، دانیال عزیز اور دیگر ن لیگی رہنما پہنچے، اس موقع پر مریم نواز کا خصوصی سکیورٹی سکواڈ بھی ائرپورٹ پر موجود تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر پارک لین اپارٹمنٹس ریفرنس میں نیب کو مطلوب تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY