روک سکو تو روک لو۔طارق بٹ

0
142

دو انتہاؤں کے درمیان پھنسے شخص کی جو کیفیت ہوتی ہے وہی آجکل میری بھی ہے۔ اگر ایک طرف جھوٹ، منافقت اور بے شرمی کی انتہا ہے تو دوسری جانب مایوسی کی۔ جوں جوں جھوٹ، منافقت اور بے شرمی بڑھ رہی ہے توں توں میری مایوسی بھی اپنی انتہاؤں کو چھوتی جاتی ہے۔ بہت غورو خوض کے بعد، ازحد ٹھونک بجا کے جانچ پڑتال کی تھی اور پھر بالآخر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اپنا قومی فریضہ ہر حال میں ادا کرنا ہے۔ سو کر دیا۔ ڈال دیا ووٹ کہ ہر جماعت، ہر لیڈر، ہر امیدوار میرے ووٹ کے تقدس اور احترام کی بات کرتا ہے۔ اور اس ووٹ کی طاقت کے ذریعے ملک میں امن واستحکام، خوشحالی وترقی اور اللہ رب العزت کی حاکمیت کے بعد عوام کی حاکمیت اور پارلیمان کی بالادستی کا دعوے دار تھا۔ سو کروڑوں دوسرے پاکستانیوں کی طرح میں نے بھی اپنا قومی فریضہ ادا کر دیا اور ووٹ دے دیا۔ یہ ووٹ میں نے پہلی بار نہیں دیا۔ اس سے پہلے بھی کئی بار دھوکہ کھایا مگر ووٹ قومی فرض سمجھ کر ہر بار دیا۔ ہر بار مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا۔ مگر اس بار مایوسی حد سے بڑھ گئی۔
جھوٹ، منافقت اور بے شرمی بھی حد سے بڑھ گئی ہے۔ جن جن کو میں نے اور آپ نے ووٹ کی طاقت سے مضبوط بنایا انہوں نے ملک کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنے آپ کو طاقتور بنانا شروع کر رکھا ہے۔ کوئی لمحہ نہیں گزرتا جب وہ ہمارے ووٹ کی تضحیک نہیں کرتے۔ ہر جماعت کی دوسری جماعت اور ہر لیڈر کی دوسرے لیڈر سے ایسی عداوت کہ الامان والحفیظ۔ یوں ایک دوسرے کے سرعام کپڑے اتارنے میں مگن ہیں کہ اپنے ننگے پن کا انہیں احساس ہی نہیں۔ اختلافات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنے مخالف کے گھر کی کہانیاں جلسوں، محفلوں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں سنائی جا رہی ہیں۔ کہاں گئیں وہ روایات کہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ اتنا گند ڈالا جا رہا ہے کہ جو باوجود کوشش کے صاف کرنا ناممکنات میں تصور کیا جا رہا ہے۔ ایسی گرہیں لگائی جا رہی ہیں۔ جو کل ہاتھوں سے تو کجا دانتوں سے بھی کھولنا ناممکن ہو جائیں گی۔
اگر تو میں نے اپنا ووٹ مسلم لیگ ن کو دیا تو سمجھیں ضائع کر دیا اس لیے کہ نواز شریف نے میرے ووٹ کی جتنی توہین اور تضحیک کی شائید کسی اور کے لیے ممکن نہ ہوتا میرے ووٹوں سے منتخب پارلیمان کو انہوں نے ٹکے جتنی بھی اہمیت نہ دی کہ گزشہ چار ساڑھے چار سال میں اس پارلیمان کو صرف اور صرف تین یا چار بار ان کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ اب اگر آپ نے پارلیمان جانا ہی نہیں تو اس کا ممبر یا رکن بننے کے لیے اتنی تگ ودو کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بجا کہ آپ نے ملک میں امن وامان کی بحالی کیلئے کام کیا۔ یہ بھی تسلیم کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے جناب نے انتھک محنت کی۔ یہ بھی ماننے کو تیار ہوں کہ سی پیک جیسا عظیم منصوبہ جناب کی کاوشوں سے شروع ہوا۔ مگر آپ کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر آپ نے میرے ووٹوں سے منتخب کردہ پارلیمان کو اہمیت دی ہوتی اور پانامہ پیپرز کے مسئلہ کو سلجھانے کے لیے کوئی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر رضا مند ہو جاتے تو آج آپ اس پارلیمان سے شائید باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ میرے ووٹ کی ناقدری کا انجام آپ نے دیکھ لیا۔ آج آپ کو شائید احساس ہو گیا ہو گا کہ ووٹ کا تقدس اور اہمیت کیا ہوتی ہے۔
اگر میں نے اپنا ووٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے پلڑے میں ڈالا تھا تو تب بھی سمجھیں ضائع ہی کیا اس لیے کہ ان کے نصیب میں صوبہ مہران کی حکومت آئی اور اس صوبے کے عوام اپنے مسائل کی گٹھری سر پر اٹھائے جس انداز میں چیختے چلاتے پھر رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سندھ کا ہر باسی گلیوں، نالیوں سڑکوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کی بے حالی اور حکومتی کرپشن کی داستانیں سنانے پر آتا ہے تو وقت کی شدید تنگی محسوس ہونے لگتی ہے۔ آیان علی، ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے قصے اور چرچے میرے جیسے ووٹر کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔
اگر میں نے اپنا ووٹ عمران خان کی طلسماتی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے باکس میں ڈال دیا تو سمجھیں وہ بھی رائیگاں ہی چلا گیا۔ اس لیے کہ جناب بھی نواز شریف کی طرح پارلیمان کو کسی بھی قسم کی اہمیت دینے کو تیار نہیں زیادہ وقت یا تو سڑکوں پر گزارتے ہیں یا پھر نتھیا گلی میں۔ اپنی ذات کو ہر وقت وزیراعظم سمجھنے والی یہ شخصیت اپنے آپ کو ہر قانون اور ہر ضابطے سے اعلیٰ وارفع سمجھتی ہے اسی لیے تو ہر عدالت سے اشتہاری ہونے کے باوجود کسی بھی عدالت می پیش ہونے کو تیار نہیں۔ کسی ادارے اور شخصیت کا احترام موصوف کے دل میں نہیں اور اس کا وہ برملا سرعام اظہار بھی کرتے ہیں۔ اتنے اعلیٰ پائے کے سیاستدان ہیں کہ سیاسی مسائل بھی بجائے سیاستدان برادری کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کرنے کے عدالتوں کے ذریعے طے کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ووٹ کے ذریعے انہیں اختیار دیا کہ وہ حکمرانی کریں اور ملک کے تمام ادارے انہیں جواب دہ ہوں مگر وہ خود اپنے اختیارات اپنے ہاتھ کاٹ کر سپریم کورٹ کے حوالے کرنے کے درپے ہیں۔ نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کا معاملہ ہو۔ الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری یا پھر آنے والی نگران حکومت کے معاملات موصوف سب کچھ سپریم کورٹ کے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔
میرے ووٹ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہو سکتی ہے کہ میں نے جو اختیارات عمران خان کو دیئے وہ سارے کے سارے اختیارات نا منتخب سترہ افراد جو کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان ہیں ان کو سونپنے کو ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔
اور اگر میں نے اپنا ووٹ انتہائی منظم اور متحرک جماعت اسلامی کو دیا تو یہ بھی سمجھیں کہ کھوہ کھاتے میں چلا گیا۔ اس لیے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کی دلچسپیاں ملک سے زیادہ باہر کے معاملات پر ہیں۔ کبھی بوسینا کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف مظاہرہ تو کبھی روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف احتجاج۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ تمام فیصلے شوری کرتی ہے مگر جناب سراج الحق بھی آئے روز میرے ووٹ کی توہین کرتے ہوئے فیصلے پارلیمان میں کروانے کی بجائے عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے دروازے پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ پانامہ کے سلسلے میں سب سے پہلے جناب ہی عدالت عظمیٰ جا پہنچے تھے مگر کریڈیٹ سارے کا سارا ان کے اتحادی عمران خان لے اڑے۔ خیبر پختونخواہ جہاں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف اتحادی ہیں۔ وہاں بھی دودھ کی نہریں بہنا چار سال میں تو شروع ہوئیں نہیں۔ آخری دس ماہ میں دیکھتے کیا ظہور میں آتا ہے۔ وفاق کی کرپشن کے خلاف آئے روز کسی نے کسی شہر میں جلسہ اور جلوس برآمد کرنے والی جماعت اسلامی کی قیادت کو خیبرپختونخوا میں ستے خیراں نہیں معلوم کیسے نظر آتی ہیں۔ میرے ووٹ کو کھڈے لائین لگانے کی سزا جماعت اسلامی نے بہت جلد بھگت لی کہ جہاں جہاں وہ دس سے پندرہ ہزار ووٹ لیا کرتی تھی آج چار ہندسوں یعنی ایک ہزار اور سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔
غور کا مقام یہ ہے کہ ہم عوام اور ووٹر تو اپنا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ مگر کیا کبھی وہ وقت بھی آئے گا جب ہمارے ووٹ کے یہ طلب گار ہمارے ووٹ کو الیکشن کے بعد بھی وہ اہمیت دینے کو تیار ہوں گے جو اہمیت یہ الیکشن کے اعلان سے پولنگ کے دن تک دیتے ہیں۔ آپ کو یقین ہو تو ہو مجھے تو قطعاً یقین نہیں اس لیے کہ ان کے جھوٹ، منافقت اور بے شرمی کی انتہاؤں کی طرح میری مایوسی بھی انتہاؤں کو پہنچ چکی ہے۔ کہتے ہیں کہ مایوسی کفر کی طرف لے جاتی ہے تو پھر اس کفر کی جانب مسلسل سفر سے میری سیاسی قیادت ہی مجھے روک سکتی ہے۔ روک سکو تو روک لو۔

طارق بٹ

SHARE

LEAVE A REPLY