دل کے دروازے کو جو بابِ حرم لکھا ہے۔ از ۔ صفدر ھمدانی

0
256

دل کے دروازے کو جو بابِ حرم لکھا ہے
چاند کے ہالے کو بھی ابرو کا خم لکھا ہے
توڑنا ہے مجھے ہر عہدِ یزیدی کا بھرم
عہد یہ کھا کے محمد کی قسم لکھا ہے
یوں لگا جیسے میرے بازو قلم ہونے لگے
میں نے کاغذ پہ کبھی جب بھی علم لکھا ہے
دیکھ لو ہاتھ میرے دونوں ہیں بالکل خالی
پر لکیروں میں میری باغ ارم لکھا ہے
سب زمانوں کے سبھی غم ہیں مرے ایک طرف
خوش ہوں تقدیر میں شبیر کا غم لکھا ہے
نصف سے زیادہ صدی کا یہ جو ہے فکری سفر
جسقدر لکھا ہے سچ یہ ہے کہ کم لکھا ہے
سر بسجدہ ہوں میں صفدر اسی اک نعمت پر
میرے رب نے میری قسمت میں قلم لکھا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY