قصیدہ فاطمہ کا جب لکھا آہستہ آہستہ
درق پھر کچھ مجھے ان کا ہوا آہستہ آہستہ
کرم تا دیر اس کے واسطے جاری رہے مجھ پر
جبھی کرتا ہوں میں ان کی ثنا آہستہ آہستہ
ملیکہ کون ہیں جنت کی جب پوچھا کس نے تو
کہا رضوان نے بھی فاطمہ آہستہ آہستہ
گو دشمن نے کیں لاکھوں کوششیں ان کو مٹانے کی
مگر بڑھتے رہے اہل ولا آہستہ آہستہ
بیاں ان کے فضایل اس لیے میں کرتا ہوں اکثر
کہ ان سے آئے امت کو حیا آہستہ آہستہ
مری بچپن میں کی ہے تربیت ماں باپ نے ایسی
سدا لیتا ہوں نام فاطمہ آہستہ آہستہ
بلال آمین زہرا بھی کہیں گی ساتھ پھر تیرے
بقییہ پاک میں کیجے دعا آہستہ آہستہ
بلال رشید












