میں تیری یاد کی چادر کو خود پر تان لیتی ہوں،عفت علوی

0
987

فضاء میں کب رچی ہے اس کی خوشبو جان لیتی ہوں
میں بند آنکھوں سے بھی اس شخص کوپہچان لیتی ہوں

تمہیں مجھ سے محبت ہے کہو نہ ہے
میں ہر پل ہر گھڑی اس سے یہی پیمان لیتی ہوں

اگر چہ بات تو ہے اختلاف رائے کی لیکن
تمہارے منہ سے نکلی ہے تو میں سچ مان لیتی ہوں

مجھے جب بھی زمانے کے دکھوں نے گھیرنا چاہا
میں تیری یاد کی چادر کو خود پر تان لیتی ہوں

عفت علوی

SHARE

LEAVE A REPLY