فضاء میں کب رچی ہے اس کی خوشبو جان لیتی ہوں
میں بند آنکھوں سے بھی اس شخص کوپہچان لیتی ہوں
تمہیں مجھ سے محبت ہے کہو نہ ہے
میں ہر پل ہر گھڑی اس سے یہی پیمان لیتی ہوں
اگر چہ بات تو ہے اختلاف رائے کی لیکن
تمہارے منہ سے نکلی ہے تو میں سچ مان لیتی ہوں
مجھے جب بھی زمانے کے دکھوں نے گھیرنا چاہا
میں تیری یاد کی چادر کو خود پر تان لیتی ہوں
عفت علوی













