یہ بھی مریضِ حسرتِ دیدار ہے حسین،سیدرضامہدی باقری

0
668

سلام بحضور سیدالشہدا امام عالیمقام حسین علیہ السلام
رب کی فقط رضا کا طلب گار ہے حسین
ہردور میں یقین کا معیار ہے حسین
جس کی سمجھ میں رب محمد نہ آسکے
اس کے لۓ نمونہء کردار ہے حسین
ہیبت سے کیوں نہ لرزہ براندام ہوں عدو
عباس جیسا تیرا علم دار ہے حسین
ہر عہد کے لبوں پہ ہے مدحت حسین کی
ہر دور کے یزید کا انکار ہے حسین
ہر اک ستم رسیدہ کا یاور ہے شاہِ دیں
مظلوموں بیکسوں کا مددگار ہے حسین
مذہب نہ ذات پات نہ جغرافیے کی قید
ہر باضمیر تیرا عزادار ہے حسین
تخت یزید غرق ہوا سیل وقت میں
اب بھی جہاں میں برسر سرکار ہے حسین
نظرِ کرم رضا پہ بھی کیجۓ شہِ جہاں
یہ بھی مریضِ حسرتِ دیدار ہے حسین
سیدرضامہدی باقری

SHARE

LEAVE A REPLY