سلام بحضور سیدالشہدا امام عالیمقام حسین علیہ السلام
رب کی فقط رضا کا طلب گار ہے حسین
ہردور میں یقین کا معیار ہے حسین
جس کی سمجھ میں رب محمد نہ آسکے
اس کے لۓ نمونہء کردار ہے حسین
ہیبت سے کیوں نہ لرزہ براندام ہوں عدو
عباس جیسا تیرا علم دار ہے حسین
ہر عہد کے لبوں پہ ہے مدحت حسین کی
ہر دور کے یزید کا انکار ہے حسین
ہر اک ستم رسیدہ کا یاور ہے شاہِ دیں
مظلوموں بیکسوں کا مددگار ہے حسین
مذہب نہ ذات پات نہ جغرافیے کی قید
ہر باضمیر تیرا عزادار ہے حسین
تخت یزید غرق ہوا سیل وقت میں
اب بھی جہاں میں برسر سرکار ہے حسین
نظرِ کرم رضا پہ بھی کیجۓ شہِ جہاں
یہ بھی مریضِ حسرتِ دیدار ہے حسین
سیدرضامہدی باقری













