کاش اب تک اس نے بتا دیا ہو ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
881

میرے خوش نظر

میں وہی خوش نگر ہوں

جہاں تم نے

کئی برس پہلے
محبت کے لشکر اتارے تھے

خدا ئے محبت کو گواہ بناکر

ہمارے جسموں نے اپنے چولے بدلے تھے

ہم روز شام ڈھلے ۔۔
پاکیزہ آسمان تلے
اپنے دل کی پنکھڑیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر

محبت کی مقدس خوشبو سونگھا کرتے تھے

روح کو روح سے ملا کر زندگی پیا کرتے تھے

تم محبت سے مجھے دیکھے جاتے
اور کہتے

جانم ۔۔ محبت ایک رات ہے
جو بڑی کرشمہ ساز ۔۔۔۔ بلند پرواز ہے

جس نے اپنا دامن
حریم مقدس سے آسمان تک بچھا رکھا ہے

تم ساتھ ہو میرے
قسمت کے ستارے اب سارے شب تاب ہیں

میرے خوش فکر
وہ تمہارا خوش نگر تمہارے بنا بڑا اداس ہے

کاش ۔۔۔۔۔
اوج فضا میں مستور
جدائی نے
مرا خاموش اقرار نامہ تمہیں سنا دیا ہو

کاش ۔۔۔ اب تک اس نے بتا دیا ہو

ہجر و وصل میں تم ہی میری قرار گاہ ہو

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY