مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تاریخ پیدائش 25 ستمبر 1903ء ہے

0
590

وقار زیدی ۔ کراچی

نامور عالم دین، مفسر قرآن، دانشور، متعدد کتابوں کے مصنف اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تاریخ پیدائش 25 ستمبر 1903ء ہے۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اورنگ آباد (حیدرآباد دکن) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1932ء میں آپ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ جاری کیا۔ علامہ اقبال کی خواہش پر آپ نے پنجاب کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور 26 اگست 1941ء کو لاہور میں 75 افراد کے اجتماع میں جماعت اسلامی کی تشکیل کی۔ بعدازاں آپ پٹھان کوٹ منتقل ہوگئے اور وہاں دارالاسلام کی بنیاد ڈالی۔
قیام پاکستان کے بعد آپ نے لاہور میں اقامت اختیار کی۔ 1953ء میں ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے سلسلہ میں آپ کو سزائے موت سنائی گئی جو بعدازاں منسوخ کردی گئی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی۔ 1972ء میں آپ کی مشہور تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ مکمل ہوئی۔ اسی برس آپ ضعیفی اور علالت کی وجہ سے جماعت کی امارت سے دستبردار ہوگئے۔
یکم مارچ 1979ء کو آپ کو پہلا شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا۔ اسی برس 27 مئی 1979ء کو آپ اپنے علاج کے لئے امریکا روانہ ہوئے جہاں 22ستمبر 1979ء کو آپ کا انتقال ہوگیا۔ 25 ستمبر 1979ء کو آپ کو ذیلدار پارک، منصورہ (لاہور) میں سپرد خاک کردیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چوہدری ظہور الٰہی کا قتل
چوہدری ظہور الٰہی
٭25 ستمبر 1981ء کو ممتاز مسلم لیگی رہنما چوہدری ظہور الٰہی اپنی کار میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس مشتاق حسین کو ان کے گھر چھوڑنے جارہے تھے ان کے ہمراہ سینئر ماہر قانون ایم اے رحمن ایڈووکیٹ بھی سفر کررہے تھے جنہوں نے بھٹو کے مقدمہ قتل میں پبلک پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دیئے تھے۔ دوپہر دو بجے کے وقت جب ان کی کار ماڈل ٹائون میں نرسری چوک کے قریب پہنچی تو ایک نامعلوم شخص نے کار پر دستی بم پھینکا اور چار نامعلوم افراد نے اسٹین گن سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں چوہدری صاحب اور ان کے ڈرائیور نسیم موقع واردات پر جاں بحق ہوگئے۔ جسٹس مشتاق حسین کو معمولی زخم آئے جبکہ جناب ایم اے رحمن محفوظ رہے۔بعدازاں اس قتل کی ذمہ داری میر مرتضیٰ بھٹو نے قبول کرلی اور کہاکہ یہ ان کی تنظیم الذوالفقار کا کارنامہ ہے۔
کچھ ہی دنوں بعد 20 نومبر 1981ء کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں لالہ اسد نامی ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا جس پر الزام تھا کہ وہ چوہدری ظہور الٰہی کے قاتلوں میں شامل تھا۔ اس کے بعد حکومت نے الذوالفقار کے کئی سو تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جن میں رزاق جھرنا نامی ایک دہشت گرد پر چوہدری ظہور الٰہی کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا کر اسے 7مئی 1983ء کو موت کی سزا دے دی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا بابر کی وفات
آغا بابر
٭31 مارچ 1919ء اردو کے ممتاز ادیب اور صحافی آغا بابر کی تاریخ پیدائش ہے۔
آغا بابر کا اصل نام سجاد حسین تھا اور وہ بٹالہ ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی فارغ التحصیل تھے۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں میں مکالمہ نویس کے طور پر کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد آئی ایس پی آر کے جریدے مجاہد اور ہلال کے مدیر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور عمر کا باقی حصہ انہوں نے وہیں بسر کیا۔
آغا بابر اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں چاک گریباں، لب گویا، اڑن تشتریاں، پھول کی کوئی قیمت نہیں، حوا کی کہانی اور کہانی بولتی ہے کے علاوہ ڈراموں کے تین مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہو نیش عشق شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات بھی لکھنی شروع کی تھی مگر وہ ان کی وفات کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ آغا بابر مشہور دانشور عاشق حسین بٹالوی اور اعجاز حسین بٹالوی کے بھائی تھے۔ 25 ستمبر 1998ء کو آغا بابر نیویارک میں وفات پاگئے۔وہ نیویارک ہی میں آسودۂ خاک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر غلام مصطفی خان کی وفات
ڈاکٹر غلام مصطفی خان
٭25 ستمبر 2005ء کو جلیل القدر ممتاز روحانی شخصیت، محقق اور ماہر تعلیم ڈاکٹر غلام مصطفی خان حیدرآباد میں وفات پاگئے۔
ڈاکٹر غلام مصطفی خان یکم جولائی 1912ء کو جبل پور (سی پی) میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی اور اردو میں ایم اے اور ایل ایل بی کی اسناد حاصل کیں اور 1947ء میں پی ایچ ڈی کیا۔ اسی دوران 1936ء سے 1948ء تک وہ ناگپور یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ رہے۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے کراچی میں سکونت اختیار کی اور 1950ء میں بابائے اردو کی درخواست پر اردو کالج کے صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعدازاں وہ علامہ آئی آئی قاضی اور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے اصرار پر سندھ یونیورسٹی سے منسلک ہوگئے جہاں انہیں صدر شعبہ اردو کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ وہ اس عہدے پر 1976ء تک فائز رہے۔ 1988ء میں سندھ یونیورسٹی میں آپ کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کے طور پر آپ کو پروفیسر ایمریطس کے درجے پر فائز کیا۔
ڈاکٹر غلام مصطفی خان سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے ۔ انہوں نے مشہور شاعر سید حسن غزنوی کے موضوع پر پی ایچ ڈی کیا تھا، اس کے علاوہ ان کی دیگر تصانیف میں ادبی جائزے، فارسی پر اردو کا اثر، علمی نقوش، اردو سندھی لغت، سندھی اردو لغت، حالی کا ذہنی ارتقا، تحریر و تقریر، حضرت مجدد الف ثانی، گلشن وحدت، مکتوبات سیفیہ، خزینۃ المعارف، مکتوبات مظہریہ، مکتوبات معصومیہ، اقبال اور قرآن، معارف اقبال، اردو میں قرآن و حدیث کے محاورات، فکر و نظر اور ہمہ قرآن در شان محمدؐ کے نام سرفہرست ہیں۔ حکومت پاکستان نے آپ کی علمی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ آپ احاطہ مسجد غفور یہ نزد ٹول پلازہ سپر ہائی وے بائی پاس حیدرآباد میں آسودۂ خاک ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY