سٹی کونسل کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی روش اپنا لی۔ اجلاس اپوزیشن کو سنے بغیر ہی ختم کر دیا۔ اپوزیشن نے فاروق ستار کو میئر پر نظر رکھنے کا مشورہ دے دیا۔
دریں اثناء، اپوزیشن کی تیاری دھری کی دھری رہ گئی کیونکہ ایم کیو ایم پوری تیاری سے آئی تھی۔ سٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کیلئے میئر کراچی ایوان میں داخل ہوئے تو متحدہ اراکین نے نعروں سے استقبال کیا۔ اپوزیشن پہلے حملے سے ہی نہ سنبھلی تھی کہ ایجنڈے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔
کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ اپوزیشن کے دل میں ہی رہ گیا۔ فٹافٹ محکمہ مکینکل اینڈ الیکٹریکل کا فنڈ بڑھانے کی قرارداد منظور کرائی گئی۔ اپوزیشن نے کارروائی کے دوران پھر بات کرنے کی کوشش کی لیکن میئر کراچی ہاتھ کر گئے اور اجلاس ہی ملتوی کر ڈالا۔ بات کرنے کا موقع نہ ملا تو اپوزیشن ہتھے سے اکھڑ گئی اور خوب نعرے بازی کی تاہم میئر کراچی نے احتجاج کو اپوزیشن کا بچپنا قرار دے دیا۔ ساتھ ہی پی ایس پی کیلئے نرم گوشہ بھی ظاہر کر دیا۔
اپوزیشن کا احتجاج ایوان سے باہر بھی چلتا رہا۔ چنانچہ سکیورٹی خدشات پر کے ایم سی ہیڈکوارٹرز کے دروازے بند کر دیئے گئے جس کے باعث میئر، اراکین اور صحافی محصور ہو کر رہ گئے۔
میئر کی چالاکی پر اپوزیشن نے ایک اور ہوشیاری بھی دکھائی۔ اجلاس میں احتجاج کیا اور بعد میں ملاقات کی۔ پہلے ڈپٹی میئر کے معاملے پر متحدہ کو جھنڈی دکھا دی۔ بات نہ بنی تو سپورٹ کی یقین دہانی کرا دی۔ فاروق ستار کو میئر پر نظر رکھنے کا مشورہ دینے والے فردوس شمیم نقوی دیگر اپوزیشن اراکین کے ہمراہ میئر کے چیمبر پہنچ گئے، بولے ڈپٹی میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاتے تو سپورٹ کرتے، بات کرنے کا موقع مل جاتا تو اچھا ہوتا، اگلا اجلاس ذرا جلدی بلا لیجئے گا۔
لیکن جھنڈی دکھانے کی باری اس بار وسیم اختر کی تھی، بولے ہمیں عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ضرورت نہیں، ارشد ووہرہ کی مجبوری سمجھتا ہوں۔
اس جواب کے بعد کرپشن پر جواب طلبی کا شور کرنے والی اپوزیشن اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
کراچی: سٹی کونسل کا اجلاس، میئر کیخلاف نعرے
714
0












