میرے عزیز ہم وطنو۔!

آپ پریشان نہ ہوں کوئی اعلان نہیں ہونے والا کہ بوٹوں کی دھمک کے ساتھ کوئی یہ کہہ رہا ہو کہ میرے عزیز ہم وطنو،،،،،،، میری تو سمجھ نہیں‌آتی کہ آپ لوگ اتنی جلدی کیوں‌بھول جاتے ہیں‌کہ میں‌ نے ایم بی بی ایس کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ اور سائیکاٹری میں‌ ماسٹر بھی کیا ہے اور پھر سائیکولوجی اور جرنلزم میں ڈپلومہ بھی ۔۔اور سب کچھ آسٹریلیا سے کیا ہے ۔ اور یہ بھی کہ میں‌ تیرہ کتابوں کی مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی اخبار کی  مدیر بھی ہوں‌۔۔۔ آج سے نہیں‌ بلکہ 2010 سے ملکی اور عالمی سیاست پر نظر رکھے ہوئے ہوں‌ ۔ پھر آپ لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں‌کہ میں‌سیاست پر بات نہ کروں‌۔۔ میری کوئی رائے نہ ہو۔ اور میں‌ ریت میں‌سر دیئے سب اچھا کہہ دوں‌۔ ۔۔ یہ نہیں‌ہو سکتا اور خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ میرے نزدیک جس کی رائے نہیں‌ ہوتی وہ بس دنیا میں گاجر مولی سے بھی بدتر ہے

آپ مانیں‌ یا نہ مانیں‌ جب بھی کسی کی رائے آپ کی رائے سے مختلف ہوتی ہے آپ کو وہ رائے سب سے تلخ‌اور بری لگتی ہے ۔ یہی میرے ساتھ ہوتا ہے ۔۔ آج کل چونکہ میں‌عمران کے نظریے اور ملک کو نقصان پہچانے کے ساتھ نوجوانوں کو گمراہ اور بدراہ کرنے کے خلاف ہوں‌تو جو جو اس کی عقیدت میں‌اندھے ہیں‌انہیں‌ میری رائے بری طرح‌ سے بری لگتی ہے اور وہ کہتے ہیں‌ “‌ارے آپ تو کومل جذبوں‌کی شاعرہ ہیں‌۔۔شاعری کیا کریں‌”‌ ۔۔ یہ میری تعریف نہیں‌ بلکہ میری توہین ہے ۔ یعنی کہ جس حساس انسان کو ہم شاعر کہتے ہیں‌ اسے نہ دین کا پتہ ہے اور نہ دنیا کا بس اپنے ہی ہجر و فراق کا راگ الاپ رہا ہے ۔

شاعر ادیب ہر ملک کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتے ہیں‌ جو معاشرے کی تربیت کرتے ہیں‌۔۔انہیں‌ وہ وہ کچھ دکھا سکتے ہیں‌ جس پر عام انسان کی نظر نہیں‌ پڑتی ۔ ۔۔انہیں‌ رائے عامہ ہموار کرنے میں‌ مدد دیتے ہیں‌۔ ان کی کہانیوں‌ اور اشعار میں‌ ان کا عہد سانس لیتا ہے ۔ ۔۔ گو کہ جو کچھ نو مئی کو ہوا کچھ نیا نہیں‌ ہوا تھا ۔۔کئی بار پہلے بھی لوگوں‌نے اپنے ملک کو اجاڑا ہے ۔ لیکن اس بار تکلیف اس لیئے زیادہ ہوئی کہ عمران خان تو پڑھا لکھا تھا اور اس کو فالو کرنے والے بھی ان پڑھ نہیں‌ تھے پھر ایسا کیوں‌ ہوا ؟‌

ریاست مدینہ بنانے کا ڈھونگ رچانے والے کیوں‌نہیں‌ جانتے کہ جب فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ خود کو زمہ دارکہتے ہیں‌۔۔ دو یمنی چادروں‌کا حساب دینے کا احتساب دینے کے مجاز ہیں‌ تو نو مئی کے حادثے اور جان بحق ہونے والوں‌ کی زمہ داری سے عمران خان کیسے بچنے چاہیئے ؟‌ ۔۔ جب پی ٹی آئی نے مذہب کا کارڈ‌ ہر جگہ استعمال کیا ہے تو اب کوڑے لگیں‌ کہ پھندہ لگے تمام کارکنان کو تیار رہنا چاہیئے۔

حقیقت یہ ہے کہ عمرانی عینک نے اس کے عقیدت مندوں‌ پر جھوٹ‌ کا پردہ ڈال رکھا ہے جو دوسروں‌ کے ہم خیال نہ ہونے پرانہیں‌ برہم کر دیتے ہیں‌ ۔۔ بحثیت حساس شاعر ادیب کے ۔۔عالمی اخبار کی  مدیرکے یہ میری زمہ داری ہے کہ میں‌اس عقیدت کے پار سچائی سے آپ سب کو روبرو کروں‌۔۔۔ اور یہ میں‌ کوئی پہلی بار نہیں کر رہی ۔۔ پی پی پی ہو کہ نون لیگ میری تنقید سب پر رہی ہے جب جب انہوں نے ملکی مفاد میں‌کام نہیں‌ کیا ۔ ۔۔لیکن ان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انہوں‌ نے مذہب کا تقدس کبھی پامال نہیں کیا۔ ۔۔

میرے نزدیک ہر پارٹی کے ارکان اور اس کے فالورز پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی اپنی پارٹی کا کڑا احتساب کریں‌۔۔ان سے سوال پوچھیں‌۔۔ ان سے پارٹی منشور کا پوچھیں‌ اور پورا نہ کرنے پر ان سے سوال کریں‌۔۔ اگر جواب نہ دے پائیں‌ تو انہیں‌چھوڑ‌دیجئے ۔ جب جب کسی پارٹی کو اندھے فالورز مل جاتے ہیں‌ وہ یہی کرتے ہیں جو آپ سب کے سامنے ہیں‌۔۔اداروں‌ میں‌ تقسیم در تقسیم ہی نہیں بلکہ خاندانوں‌اور گھروں‌تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔ یاد رکھئے نظریاتی پارٹی کبھی ختم نہیں‌ ہو سکتی چاہے اس کے قائدین تمام عمر جیل ہی میں‌ کیوں نہ رہیں۔

کچھ کے نزدیک صرف کور کمانڈر ہاؤس ہی “‌ جناح‌ ہاؤس “‌ہوگا ۔ میرے لئے تو پورا پاکستان ہی جناح ہاؤس ہے ۔۔

اس کی ایک بھی اینٹ‌ کو توڑا جاتا ہے ۔۔یا اس کے سبزے کی پتیاں‌ بھی بکھرتی ہیں تو دل کو تکلیف ہوتی ہے ۔

میرے عزیز دوستو !‌
ہم سب تاریخ‌ کے اس موڑ‌پر ہیں‌ جہاں اگر اداروں‌ اورعوام کا احتساب نہ ہوا تو ہم کتاب کے صفحے کی طرح‌ پلٹ‌ دیئے جائیں‌ گے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی

SHARE

LEAVE A REPLY