غلامی کیا ہے ۔۔۔ ؟ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
321

غلامی یہ نہیں ہوتی کہ کوئی عمر قید کاٹ رہا ہو یا کسی نے اسے اغواہ کر کے غلام بنا لیا ہو یا کوئی قوم کسی ظالم حکمران کے ہاتھوں پس رہے ہوں ۔۔۔ غلامی یہ ہوتی ہے جو آواز نا اٹھا سکے ۔۔ جوظلم کے خلاف گواہی نا دے سکے ۔

غلامی کیا ہے ۔۔۔ ؟
غلامی سوچوں کی ہوتی ہے ۔۔۔ رسم و رواج کے تحت ہزاروں برس گزر جایئں اور قوم میں کوئی نئی سوچ والا نا پیدا ہو ۔۔۔

دین مذہب مسلک ، خاندانی روایات کسی شناخت کی طرح نسل در نسل چلے اور کوئی پوچھنے والا نا ہو ۔۔۔۔۔۔ میں مسلمان ہندو عیسائی یہودی کیوں ہوں ؟ ۔۔

کوئی یہ نا سوچنے کی کوشش کرے کہ میری شناخت کچھ اور کیوں نہیں ہے ؟

جب یہ نا کوئی سوچنے کی تمنا کرے کہ میں زندہ کیوں ؟
جب یہ کوئی نا سوچے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟
جب یہ نا کوئی سوچنے کی کوشش کرے کہ آخر سب سے الگ سوچنے پر پابندی کیوں ہے ؟

غلامی جہالت کے اندھیروں کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔

جس کسی میں بھی ” کوشش” یعنی سوچنے کی تمنا چنگاری کی طرح جاگ اٹھے اس کے لئے اللہ پاک کے قرب کی خوشخبری ہے ۔۔۔

جب کوئی گھسی پٹی روایات کی زنجیریں توڑ کا باہر نکلے اس کے لئے آگہی کی خوشخبری ہے ۔۔

جب کوئی اپنے قبیلے ، خاندانوں کے ہزاروں برس پرانے دین مذہب مسلک کی بیڑیاں توڑ کر خود سوچے کہ میں کون ہوں ۔۔۔ ؟ اپنے اندر کی آواز سنے کہ کون ہے وہ جو مجھے اپنی طرف بلاتا ہے ۔۔ ؟ اور سمجھنے پر دھیان دے کہ آخر وہ سمجھاتا کیا ہے ؟ اور جو سمجھ جائے وہ منفرد ہے ۔

میں صرف انسان کی زات کے اندر کی تبدیلی چاہتی ہوں کیوں تمام پولیٹیکل اسٹرکچر اور سوشل اور دینی اسٹرکچر اور سب سے زیادہ اہم موت کے بعد کا استڑکچر اسی تبدیلی پر منحصر ہے ۔ اگر تبدیلی جمیعیت کے مرہون منت ہوتی تو سب اجتماعی قبر میں دفن ہونے کے باوجود انفرادی حساب کتاب کا عندیہ نا پاتے ۔۔۔۔

دوستو ۔۔۔

سوچنا ۔۔ منفرد سوچنا بغاوت نہیں بلکہ ہزاروں سال کی غلامی سے رہائی ہے ۔ اور یہ کسی بھی مرد و عورت کا جنم دن ہے چاہے وہ مرنے سے ایک دن پہلے جنمے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY