انوار الحق منہاس
کشمیر ،کشمیروں کا ہے یہ ایک قوم کی آزادی کی جنگ ہے یہ کوئی زمینی ٹکڑے کا تنازعہ نہیں ہے اور موجودہ تحریک کا یہ تسلسل 1832 ءسے چلا آ رہا ہے جو کشمیریوں نے زندہ کھالیں کھنچوا کر اس تحریک کا آغاز کیا تھا اور وہاں سامراجی اور غاصب طاقتوں کے خلاف قربانیوں کے باب رقم کرنے شروع کیے تھے. انسانی تاریخ میں آزادی کی خاطر زندہ انسانوں کی کھالیں اتارنے جیسی بھیانک سزا کی کہیں مثال موجود نہیں لیکن کشمیریوں نے اپنی تحریکِ آزادی کا آغاز ہی ا انہی قربانیوں سے کیا تھا. برصغیر میں ابھی پاکستان نام کا کسی نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا

جب کشمیر ی اپنے خطے سے غاصب و سامراج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جو ابھی تک حالتِ جنگ میں ہیں.

یہاں میں پاکستان کے دانشور اور اہلِ قلم سے گزارش کروں گا کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کے لئے اپنا بھر پورکردار ادا کریں اور سچائی و حقائق کو منظر عام پر لائیں، جیسا کہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ آپ نے ابھی اور اس سے قبل بھی کشمیر کے حقائق پر لکھا. ایک میں ہی نہیں پوری قوم آپ اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے تمام پاکستانی زعماء دانشور اور اہلِ قلم کے شکر گزار ہیں کہ آپ کشمیر سے متعلق حقائق کو منظرِ عام پر لائیں تاکہ ہمارے پاکستانی بہین بھائی جو ان حقائق سے نا آشنا ہیں کہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک زمینی تنازع ہے،جیسی مسخ شدہ اور گمراہ تاریخ سے باہر نکل کر اس بات کو تسلیم کریں کہ کشمیر ی ایک علیحدہ قوم ہے جس کا اپنا ایک تشخص اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ ہے اور یہ قوم اپنے بکھرے ہوئے اور تقسیم شدہ کشمیر کی ایکائی کے لئے قربانیاں دے رہی ہے نا ، کہ ہندوستان یا پاکستان کا حصہ بننے کے لئے.

نیز ایسا ہی کردار بھارت کے اندر بھی دانشور طبقے کو بھی ادا کرنا چائیے اور دونوں اطراف کی حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں پر بھی عوامی دباؤ بڑھانے کے اقدامات کئے جانے چائیں تاکہ دونوں ممالک دفاعی اور ایٹمی اخراجات کی دوڑ سے نکل کر ایک ارب سے زائد غریب انسانوں کو زندگی کی بنیادی آسائش و سہولتیں دے سکیں.

SHARE

LEAVE A REPLY