پرندوں کا انسانوں کو محبت ،خلوص اور اپنائیت کا سبق۔۔روبینہ شاہد

0
151

یہ ماہ جنوری کی ایک یخ بستہ صبح تھی، جب میرے چھوٹے بیٹے نے بالکونی کا دروازہ کھول دیا۔۔اور ایک سرد جھونکے نے میرے چہرے کو چھوا۔
میں نے رضائی چہرے تک لے لی تھی ، مگر بالکونی کی منڈیر پر بیٹھے کوے کی کائیں کائیں مجھے مسلسل ڈسٹرب کر رہی تھی۔ میں غصے سے اٹھی، بیٹے کو ڈانٹا اور اپنے دوپٹے کو ڈبل کر کے کوے کو شش شش کر کے بھگانے لگی مگر وہ ڈھیٹ بنا بیٹھا رہااور الٹا جب میں دوپٹا مارتی وہ اسے چونچ میں دبانے کو لپکتا۔ میرا بیٹا اتنی دیر میں کچن سے آدھی روٹی لے آیا اور بولا ’’مما یہ بہت بھوکا ہے، یہ روٹی اسے دے دیں یہ چلا جائے گا۔‘‘

میں نے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے توڑے اور اس کے سامنے دیوار پر رکھ دیے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کائیں کائیں شروع کردی اور کئی کوے منڈیر پر آ بیٹھے۔ میرا بیٹا جلدی سے روٹی کا ڈبہ اٹھا لایا اور میں باقی کی بچی ہوئی ساڑھے تین روٹیاں بھی جلدی جلدی توڑنے لگی اور یوں تمام روٹی کوؤں کو ڈال دی اور کوؤں کی تعداد بڑھتی رہی۔ میرا بیٹا خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا، اس نے منڈیر پر رکھے مٹی کے کونڈے میں پانی بھی ڈال دیا۔ تمام کوؤں نے کھانے کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر کائیں کائیں کی ، جیسے اپنے رب کا شکر ادا کر رہے ہوں اور اڑ گئے ۔

میرا بیٹا بہت خوش تھا، بولا ’’مما! دیکھا آپ نے پرندے مل جل کر کھاتے ہیں، انہیں احساس ہوتا ہے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کا۔‘‘

میں بالکل بھول چکی تھی کہ اس یخ بستہ موسم میں ٹھنڈے فرش پر میں ننگے پیر اور بنا کسی گرم کپڑے کے کھڑی ہوں، میں تو بس گم تھی کہ وہ پرندے جنہیں ہم بے زبان کہتے ہیں حالانکہ ہم ان کی زبان نہیں سمجھتے۔

یہ پرندے تو ہم انسانوں کو محبت ، خلوص اور اپنائیت کا وہ سبق دے گئے کہ اگر ہم اپنی بھوک کے ساتھ دوسروں کی بھوک کا بھی احساس کریں اور مل بانٹ کر کھائیں تو بہت جلد بھوک اور افلاس کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

روبینہ شاہد

SHARE

LEAVE A REPLY