عدالت عظمیٰ نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت لیز زمین اور زرعی آمدن سے متعلق مزید دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئیں۔ عدالت نے وکیل حنیف عباسی کو تحریری گزارشات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
وکیل حنیف عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ زرعی آمدن پر جہانگیر ترین کے مؤقف میں تضاد ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ زرعی ٹیکس کے معاملہ پر صوبائی اتھارٹی نے کوئی ایکشن نہیں لیا، دیکھنا ہے کہ ریکارڈ پر آئی دستاویز سے بے ایمانی کا سوال پیدا ہوتا ہے یا نہیں؟ وکیل عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیر ترین اور ان کی اہلیہ ٹرسٹ کے تاحیات بینفیشری ہیں جسے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ٹرسٹ کا سیٹلر مالک نہیں ہو سکتا، کاغذات نامزدگی میں جہانگیر ترین نے اپنے اثاثے بتانے تھے، ٹرسٹ ان کا اثاثہ نہیں تھا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پانامہ کیس میں سوال منی ٹریل کا تھا کہ جائیدادوں کے لئے پیسہ کہاں سے آیا؟ یہاں بھی سوال جائیداد خریداری کی منی ٹریل کا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو دیکھنا ہے کہ جو حربے استعمال کئے گئے کیا وہ ایماندار شخص استعمال کرتا ہے؟ پانامہ فیصلے میں عدالت نے کنڈکٹ کو دیکھ کر نااہلی کا فیصلہ دیا۔ مقدمے کی مزید سماعت جمعرات کو ہو گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY