کوئٹہ: اے آئی جی حامد شکیل قاتلانہ حملے میں جاں بحق

0
201

کوئٹہ میں ایئرپورٹ روڈ پر دھماکے میں اے آئی جی حامد شکیل سمیت 3 پولیس اہلکارشہید جبکہ 6 افراد زخمی ہوگئے۔
تفتیشی حکام نے دھماکے کو خودکش قرار دیا ہے، ڈائریکٹرسول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ دھماکےمیں 10 سے 15 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ایس ایس پی حامد شکیل درانی کی گاڑی چمن ہاؤسنگ اسکیم ایئرپورٹ روڈ سے گزر رہی تھی کہ اچانک زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار حامد شکیل اور 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔ جنہیں سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکےمیں ایس ایس پی موٹرٹرانسپورٹ حامدشکیل کی گاڑی کونشانہ بنایاگیا، دھماکے سے ایس ایس پی کی گاڑی کےعلاوہ 3 گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچا۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا ایئرپورٹ روڈ پر زیرتعمیر عمارت کے قریب ہوا۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے تحقیقات شروع کردی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملےکی شدید مذمت کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سےدلی ہمدردی اور زخمیو ں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کےاس واقعےکی جتنی بھی مذمت کی جائےکم ہے،شہید حامد شکیل اور پولیس اہلکاروں نےوطن پر جانیں نچھاور کی ہیں،شہداء ہمارے ہیرو ہیں،ان کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

واضح رہے کہ 1960 میں پیدا ہوئے حامد شکیل اس سے قبل ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز، ایکٹنگ ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور اے آئی جی آپریشن کے عہدوں کے علاوہ بلوچستان پولیس کے دیگر کئی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

بلوچستان کے گورنر محمود خان اچکزئی اور وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کردی۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کے آگے اپنے سر نہیں جھکائے گی اور واقعے کے ملزمان کو انصاف کے کھٹہرے میں لایا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY