عدالت کے باہر جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ قابل ستائش ہے؟ چیف جسٹس

0
90

جہانگیر ترین اور عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شیئرز کی خریداری میں جہانگیر ترین نے غیرقانونی طریقے سے 7 کروڑ کمانے کا اعتراف کیا، ایس ای سی پی کی کارروائی پر بھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ چیف جسٹس بولے، ہمارے تحمل اور برداشت پر داد دیجئے، عدالت کے باہر جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ قابل ستائش ہے؟ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کے 1997ء کے کاغذات نامزدگی منگوانے کی استدعا مسترد کر دی۔

اٹارنی جنرل کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا مؤقف ہے کہ جہانگیر ترین کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن نے جرمانہ کیا اور انہوں نے وہ ادا کیا۔ وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کسی بھی قانون سازی پر جوڈیشل نظر ثانی کا اختیار ہے۔ عمران خان نااہلی کیس میں وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں کوئی اثاثہ چھپایا تھا تو ریٹرننگ افسر کاغذات مسترد کر سکتا تھا۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے 1997ء کے الیکشن میں لندن فلیٹ اور آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کے 1997ء کے الیکشن کے کاغذات کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں؟ کیس کو مزید لمبا نہیں کرنا چاہتے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کمپنی کا یورو اکاؤنٹ کہاں سے آ گیا۔ غیرمتنازع دستاویز دینے کی ذمہ داری درخواست گزار کی ہے۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ آف شور کمپنی تسلیم کرنے کے بعد دستاویز دینے کی ذامہ داری عمران خان پر منتقل ہو چکی، وہ 2002ء کے الیکشن میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اکرم شیخ صاحب یہ بات باہر جا کر کیجئے گا، عدالت کے باہر جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ کسی طرح بھی قابل ستائش نہیں، کسی کے کہنے سے ہماری شان یا انصاف میں کمی نہیں آئے گی۔ مقدمے کی مزید سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY