اسلام آباد دھرنا، مذاکرات کا سلسلہ پھر تعطل کا شکار

0
232

اسلام آباد دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کے لئے حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جہاں سے چلا تھا وہی آکر رک گیا ۔
ترجمان دھرنا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کے مطالبے پر قائم ہیں ،اس کے بعد ہی مذاکرات شروع ہوں گے اور حکومت کے سامنے مطالبات رکھیں گے ۔
ذرائع کے مطابق دھرنا انتظامیہ نے انتخابات ایکٹ میں ترمیم ،کمیٹی میں زاہد حامد کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ۔
دھرنا کمیٹی کی جانب سے ڈرافٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے ، جس میں پہلا مطالبہ زاہد حامد کا استعفیٰ ہے ، جس کا متن بھی تیار کیا جارہا ہے، تحقیقات میں اگر وزیر قانون زاہد حامد بے گناہ ثابت ہوئے تو وہ دوبارہ وزیر بن سکتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق دھرنا انتظامیہ نےراجا ظرف الحق کی کمیٹی رپورٹ عام کرنے،ترمیم کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی گارنٹی ، گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی ،قائدین اور کارکنوں کے خلاف قائم مقدمات کے خاتمے کو مطالبات کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔
پیر آف گولڑہ شریف غلام نظام الدین جامی کی زیر قیادت ن لیگ کے چیئرمین راجا ظفر الحق کے گھر پر حکومت اور مذہبی جماعت کے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تھی ۔
فریقین نے تحریری معاہدے پر رضامندی ظاہر کی اور ایک دوسرے کو مذاکرات کے نکات بھی دیےاور طے پایا تھا کہ مذہبی جماعت معاہدے کے نکات پر اپنی شوری کی رضا مندی کے لئے مشاورت کرے گی اور حکومت کو جواب دیا جائےگا۔
اس موقع پر مذہبی جماعت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کے مطالبے پر لچک کا مظاہرہ کیا تھا جبکہ حکومت نے دھرنا رہنمائوں کے خلاف قائم مقدمات واپس لینے کا عندیہ دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY