اتنا مکھن ہو گا تو کون کافر نہیں پھسلے گا ۔ ممتازملک. پیرس

0
164

پیرس دنیا کے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک ہے . ہر نئی ٹیکنالوجی, فن اور ہنر یہاں سب سے پہلے نمائش پذیر ہوتا ہے . دنیا یہاں اپنے شعبوں کی مہارت حاصل کرنے آتی ہے .
وہیں ہماری پاکستانی کمیونٹی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے . لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہماری کمیونٹی کے اکثر افراد شارٹ کٹ اور یاری دوستی کے سر پر ان لوگوں کے سر پر پاؤں رکھ کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں . جو اپنے کام میں دن رات محنت کر رہے ہوتے ہیں.

اور جب محنت کرنے والے کی محنت کے برابر ہی کیا اس سے کہیں زیادہ کا پھل اس ناکارہ انسان کو طشتری میں رکھ کر پیش کر دیا جائے تو محنت کرنے والوں کا غصہ اور تڑپ یقینی ہوتا ہے . ان گندی مچھلیوں کا صفایا کرنا بے حد ضروری ہے اور یہ اس وقت اور بھی ضروری ہے جب ایسے افراد کے نوازنے والے ہمارے اپنے ہی سفارتخانے میں پاکستان کے خزانے سے یہ سب کچھ کرنے میں ملوث ہوں .
کون ہیں وہ کالی بھیڑیں جو ان دو نمبر خواتین و حضرات کے لیئے سفارتخانے کے دروازے کھل جا سم سم کہہ کر کہلواتے ہیں ؟

ان سبھی چور دروازے تلاشنے والی ایک خاص یا بدنام خاتون کا تذکرہ ہمارا آج کا موضوع ہے . یہ خاتون اپنی میٹھی میٹھی چرب زبانی سے لوگوں کو اپنے پھندے میں لانے کے بعد ان کے ذریعے اپنی شہرت کی سیڑھیاں تیار کرتی ہے . لیکن “خواتین کو راستہ دینے اور آگے بڑھنے کے مواقع دینے” جیسے دلکش نعرے کے ساتھ خواتین کو اپنے دام میں لانے والی یہ خاتون پچھلے پچیس سال میں کسی بھی ٹیم کیساتھ دو چار ماہ سے زیادہ کبھی کام نہیں کر سکی . خود کو رائٹر کہتی ہے. نیٹ ہر سارا دن بیٹھی فیک آئی ڈیز کے زریعے لوگوں کی جاسوسی کرتی ہے . ہزاروں تحروں کی دعویدار خاتون کی کوئی تحریر ایک سو صفحات تک کی کتابی صورت میں بھی موجود نہیں ہے . آج تک یہ اپنے گھر سے (دباؤ زور زبردستی یا منت ترلے سے ہی سہی ) کسی پروگرام میں کرسی اور مائیک پر کنفرمیشن کے بغیر کہیں کسی پروگرام میں نہیں گئی . کیونکہ وہ جانتی ہے کہ گھر سے پکا کیئے بنا انہیں پبلک میں بیٹھنا پڑیگا جو ان کی شان اعلی کے خلاف ہے . اور اپنے ہنر کے بل پر یہ پیشکش انہیں کریگا کوئی نہیں ?
اس خاتون کی تازہ واردات یہ ہے کہ پاکستان کے پہلے میلہ 2017 میں پاکستانی کمیونٹی نے دن رات محنت کی . ان کی تعداد ساٹھ سے ستر کے قریب بنتی ہے . جنہیں تعریفی اسناد کے لیئے ایمبیسی میں دعوت دی گئی اور اسناد تقسیم کرنا تھیں

لیکن وہاں اس جیسی خاتون اور جانے اس جیسے کتنے مردوزن کی اسناد بھی تیار کی گئی جو دو سو کے قریب ہیں . جو نہ تو اس میلے کے آرگنائزر میں تھے نہ پرفارمرز میں تھے. اور نہ ہی اس میلے کے فنانسرز میں تھے .یہاں تک کہ یہ خاتون اس روز میلہ دیکھنے والوں میں بھی شامل نہیں تھی . لیکن اس نے اپنے لیئے اور اپنی بیٹی کے لیئے گھر بیٹھے سفارتخانے کی کالی بھیڑیں کے ذریعے تعریفی اسناد بنوائیں.یہ تو اب ہمارے محترم سفیر پاکستان ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ اسناد تھیں یا ریوڑیاں

اور تو اور گھر بیٹھے اپنے مردانہ واقفان کے ذریعے ہی نہ صرف میلے کی ہیروئن بننے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا چکی ہیں .بلکہ دو تین خوشامدی خیالی قصیدے میلے سے پہلے ہی اسکی کامیابی پر اور ہمارے نئے سفیر پاکستان محترم معین الحق صاحب کی شان میں لگا چکی ہیں . چور دروازے سے جا جا کر پھول کیک اور قصیدوں کی پٹی ان کی آنکھوں پر باندھتی رہی . اور اپنے ان کاموں کے قصیدوں کا زور ان کے کانوں میں پھونکتی رہی جس کا ایک ورک بھی کتابی شکل میں کسی نے کبھی نہیں دیکھا جس کی وجہ شہرت ہی لوگوں سے رقوم اور فائدے لیکر ان کے قصیدے لکھنا ہے . معصوم خواتین کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے دو نمبر عزت کمانا ہے .جبھی تو ان کی عظیم تحریریں پچھتر فیصد قصیدوں پر ہی مبنی ہیں. دوسروں کو اس حد تک اپنی چکنی چپڑی باتوں سے برین واش کر کے مجبور کر دینا کہ وہ ان کے کہنے پر ہی . .دن کورات اور رات کو دن کہنے پر مجبور ہو جائے ….
بھئی اب اتنا مکھن ہو گا تو کون کافر نہیں پھسلے گا .

یہ وہی بدنام زمانہ آڈیو سکینڈل میں ملوث خاتون ہیں جن کی بدنامی کی کالک دھونے کے لیئے ہم نے اپنے ہاتھ بھی کالے کر لیئے تھے . لیکن ڈسنا بچھو کی فطرت ہیں سو ہم بھی دو بار روپ بدلنے کی امید پر ڈسے گئے . پیرس کا کوئی بھی لکھنے والا اس خاتون کیساتھ چار دن سے زیادہ کام نہ کر سکا . آخر کیوں نہ کر سکا. کیونکہ سامنے تعریف کا پٹارہ کھولنے والی یہ خاتون اسی انسان کی پشت پر اس کی جڑیں کاٹنے اور اسے بدنام کرنے کا کام خوب زورشور سے کرنے پر یقین رکھتی ہیں . جھوٹ بولنا اور منافقت کرنا اس کی فطرت میں گندھا ہوا ہے . انسان اپنے دشمن سے تو بچ سکتا ہے لیکن منافق کے وار سے صرف اللہ ہی کسی کو بچا سکتا ہے .
جو جب چاہے رات کے دو بجے سر سے دوپٹہ اتارے مردوں کی ٹولی میں تنہا کھڑی نظر آتی ہیں. تو کبھی حجاب اور جبہ پہنے دین کے نام پر سودے بازیاں کرتی دکھائی دیتی ہیں .

ہر بار نئی اور معصوم خواتین کو پھانس کر ان کے ساتھ کسی تنظیم یا گروپ کا فیتہ کاٹتی ہیں. اس ڈرامے کےلیئے بھی لازمی یہ ہے کہ صدر وہ خود ہونی چاہئیں اور ان نئی ناتجربہ کار معصوم خواتین سے اپنے لیئے قصیدے لکھوا کر ان کو ایسا روپ دکھاتی ہیں کہ وہ انہیں کک آوٹ کر کے چلتی بنتی ہیں یا یہ دو ماہ میں انہیں دودہ سے بال کی طرح نکال باہر کرتی ہیں کسی سوال کے پوچھنے یا حساب کتاب کرنے کے جرم میں .
قصیدے کے بدلے ہماری ایمبیسی ان خاتون کو سرکاری خزانے سے کس خدمت کے عوض دو ہزار یا پانچ ہزار یورو کی گرانٹ عنایت کرتی ہے . آج تک ہمیں نہ اس کا جواب ملا،نہ سمجھ آسکی .
وہ کون سا کام ہے جو فرانس کی ایک لاکھ سے زیادہ کی پاکستانی کمیونٹی کو نظر نہیں آیا لیکن ہماری ایمبیسی کے کچھ خاص افراد کو نظرآ جاتا ہے . وہ سب جادو گر سلمانی سرمہ دار آنکھوں والے سفارتخانہ اہلکار کون ہیں اور اس خاتون سے کس قسم کے تعلقات رکھتے ہیں . جسے ان کے نامعلوم کاموں پر حصہ لیئے بنا ہی کبھی اسناد اور کبھی اعزازات سے گھر بیٹھے ہوئے نوازا جاتا ہے . ہمیں امید ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ان تمام کالی بھیڑیں کو بے نقاب کریگا اور اور ہمارے سوالوں کا کھلے دل سے جواب دیگا . یا پھر ان چور راستوں کو اعلانیہ کنفرم کر دیگا کہ ہم سبھی پاکستانیوں کو وہ ساری جادوگریاں سکھانے کا انتظام کریگا تاکہ ہمیں بھی گھر بیٹھے ہی یہ سبھی انعام واکرام و اسناد حاصل ہو سکیں .
ہم سب وضاحت کے منتظر ہیں .

ممتازملک. پیرس

SHARE

LEAVE A REPLY