میں نے مِڈل سکول میں ڈاکٹر اقبال کی ایک غزل پڑھی

0
945

میں نے مِڈل سکول میں ڈاکٹر اقبال کی ایک غزل پڑھی جس کا اثر مجھ پر آج تک قائم ہے ، اس غزل نے بےحد متاثر کیا ، انسپائر کیا ، موٹیویٹ کیا اور میرے جذبوں میں آتشکدہ فارس کی مانند آگ بھر دی جو ہمیشہ جلتی ہے اور میرے افکار و کردار وغیرہ میں اس غزل کا مجسم روپ غالب ہی رہا اور اس کا اثر عملی زندگی میں بھی نمایاں رہا اور ہے۔ ڈاکٹر اقبال کی شاعری سے میں شاید اس لیے متاثر ہوا کیونکہ میں ایسے گھرانہ میں پروان چڑھا جو اسلامی افکار میں لتھڑا ہوا تھا ، چنانچہ کسی غیر مسلم کیلئے ان کے افکار ممکن ہے کوئی معنے ہی نہ رکھتے ہوں ، نہ ہی اس کا ان کے افکار کے ساتھ کوئی جذباتی احساس قائم ہو پائے ۔
کیونکہ ڈاکٹر اقبال کی بنیادی فکر کا محور و مرکز ” خود شناسی ” ہے ، ان کے افکار انسانی وجود کی ” قیمت ” کے گرد گھومتے ہیں ، یعنی کہ انسان کس قدر قیمتی ہے اور کیسی صلاحیتوں کی حامل مخلوق ہے اور اس صلاحیتوں کے ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے ، نیز ان انسانی صلاحیتوں کے ساتھ کیا کیا جانا چاہیے اور انہیں کس مقصد کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔
خود شناسی کیلئے ڈاکٹر اقبال نے اسلامی افکار کو سورس اور سرچشمہ بنایا ہے اور اسی کو مقصد بھی قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان کی فکر کے مطابق اسلامی افکار ہی انسان کو اس کی ذات کی درست شناخت کروا سکتے ہیں ، اسے یہ بتا سکتے ہیں کہ انسان کیا ہے ، کیسا ہے اور کیوں ہے۔ نیز اسلام انسان کی زندگی کو مقصدیت ، اُمید ، جذبہ اور اقدار values دے سکتا ہے ، اور یہ انسان کو اس کی ذات کے گرد گھماتا ہے ، اس کی اپنی ذات میں غوطہ زنی کی طرف مائل کرتا ہے اور اس کو وجودی ارتقاء بخشتا ہے۔
اسی مرکزی فکر ” خود شناسی ” کی وجہ سے اقبال اسلامی افکار کی درستگی پر بھی کام کیا اور اپنی شاعری میں اسلامی تاریخ ، مسلمانوں کی تہذیب و تمدن ، ان کی سماجی اور معاشرتی سٹرکچر وغیرہ پر بھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ اور مسلمانوں کی فکری و عملی زندگی سے جڑے ہر پہلو کے متعلق جو اسلامی افکار موجود ہیں ان کو حتی الامکان درست کرنے کی کوشش کی ، چونکہ اگر ان افکار میں ہی غلطی ہو گی تو یہ اپنا درست کام یعنی انسان کو اس کی ذات کی پہچان کروانا ، نہیں کر سکیں گے ، بلکہ انسان مزید اپنی ذات سے دور چلا جائے گا۔ مثلاً شکوہ جوابِ شکوہ میں ڈاکٹر اقبال نے مسلمانوں کو بہانہ ساز قرار دیا اور افکار میں ان کی پستی ، ان کی سستی ، نرگسیت ، خواب و خیالی ، بہانہ بازی پر سخت تنقید کی۔
۔
ڈاکٹر اقبال کی شخصیت اور ان کے افکار کو آج کل ایک زبردست تنقید کا سامنا ہے ، مثلاً یہ کہ ڈاکٹر اقبال فلسفی نہیں تھے وہ ایک متکلم تھے۔ وہ عقل کے بجائے عشق و وجدان کے زیادہ حامی تھے ، انہوں نے اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کو فینٹیسی دی اور رومینٹیسائز کیا ، ایک طرف ان کو نرگسیت پر تنقید کا نشانہ بنایا دوسری طرف خود مسلمانوں کو نرگسیت پر اُبھارا ، ان کو قدامت پسندی پر مائل کیا ، جارحیت پسندی پر مائل کیا ، اُن کی سوچ میں صوفیانہ اثرات غالب ہیں ، اُن کی فلسفے میں کوئی کانٹریبیوشن contribution نہیں ہے چنانچہ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ جو انہوں نے جرمن یونیورسٹی میں دے کر ڈاکٹریت کی سند حاصل کی، وہ دراصل ایران میں مسلمانوں کی صوفیانہ تاریخ پر ایک نگاہ ہے ، اس مقالے کا موضوع مندرجہ ذیل ہے۔
۔
The Development of Metaphysics in Persia: A Contribution to the History of Muslim Philosophy
۔
میری ذاتی رائے میں بھی اقبال ایک فلسفی نہیں تھے بلکہ متکلم اور عظیم مفکر تھے البتہ یہ چیزیں بہت وسیع جد تک ڈیبیٹ ایبل debateable ہوتی ہیں کیونکہ اس کیلئے فلسفے اور فلسفی کی تعریف کا تعین لازمی ہو گا جو ابھی تک ایک نہیں ہے۔ البتہ یہ کہ فلسفی اپنی فکر میں آزاد ہوتا ہے ، ڈاکٹر اقبال اسلام سے باہر نہیں نکلے بلکہ اس کو سرچشمہ قرار دیا۔
۔
میری ذاتی رائے میں اقبال کی شاعری سے پہلے تو کوئی فکر نکالنا بڑا ہی مشکل کام ہے کیونکہ کسی شعر سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ شاعر کا دراصل مقصد کیا ہے اور وہ کیا کہنا چاہتا ہے یا مثلاً جو کہنا چاہتا ہے اس کیلئے کیا دلیل رکھتا ہے وغیرہ۔ اسی طرح عقل کے حوالے سے ڈاکٹر اقبال دراصل وجدان کے زیادہ حامی تھے ، لیکن یہ وہ روایتی وجدان نہیں ہے جو عموماً عوام میں رائج ہے بلکہ جس طرح کانٹ نے وجدان کو عقل کا سب سے سپیریئر لیول قرار دیا ، اقبال نے اس کو اسی مفہوم میں استعمال کیا ہے ، چنانچہ وہ عقل کے مخالف ہرگز نہیں تھے۔ ڈاکٹر اقبال پر تنقیدی آراء میں بہت ساری باتیں درست بھی ہیں لیکن بہت ساری غلط ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کی فکر کے متعلق علمی غلطیاں اس لیے ہیں کیونکہ ابھی تک کسی نے ان کی فکر کو دقیق نگاہ سے ریسرچ بیسڈ سٹڈی کر کے پیش ہی نہیں کیا۔ چونکہ اکثر ہی ان کی فکر کے کسی ایک گوشے کو اُٹھا کر اسی پر اس کی ساری فکر کو جج کیا جاتا ہے ، میری رائے میں ڈاکٹر اقبال کے فکر کی پیچیدگیوں اور درست مفہوم تک پہنچنے کیلئے اس کی فکر کو بحیثیتِ کُل دیکھنا چاہیے ، اگر وہ کسی شعر میں عقل پر حملہ آور ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عقل کے مخالف ہیں۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کے کام پر کوئی قابل ذکر کامینٹری بھی نہ ہی اردو میں نہ ہی فارسی میں موجود ہے۔ کامینٹرہ کے بغیر کوئی بھی آسانی سے بھٹک جائے گا۔
فرصت نہ ہونے کے باعث اسی مختصر تجزیہ پر اکتفا کروں گا اور آخر میں وہ غزل پیشِ خدمت ہے جس کا تذکرہ شروعات میں کر چکا۔
۔
کیا اُس خاک داں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
نہ باد بہاری، نہ گُلچیں، نہ بُلبل
نہ بیماریِ نغمۂ عاشقانہ
خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربتِ غازیانہ
حمام و کبوتر کا بھُوکا نہیں مَیں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہُو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیا
مِرا نیلگوں آسماں بیکرانہ
پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں مَیں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

جسٹن سنو۔ ۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY