دوستو ۔!
کبھی آپ نے سوچا کہ اکیسویں صدی کا مزاج کیا ہے ؟
یہ تو آپ سب جانتے ہونگےکہ صدی کا مزاج اس صدی کو ملنے والے انسانوں کی معاشرت بناتی ہے ۔ یوں تو معاشرت درختوں ، پھولوں ، جانوروں ، دریاؤں ، سمندروں ، پہاڑوں اور چٹانوں کی بھی ہوتی ہے ۔ لیکن وہ بھی انسانو ں کی معاشرت سے متاثر ہوتے ہیں ۔ اس صدی کو تیز مزاجی ، عدم برداشت اور جلد نتائج حاصل کرنے والے بے صبرے انسان ملے ہیں ۔ آج کے انسانوں کو دو گھنٹے پہلے کی کوئی بھی بات بھی پرانی لگتی ہے ۔ بات کی سچائی کے لئے کہنے والے کا دین ، مذہب اور مسلک کا جاننا بہت ضروری ہو چکا ہے چاہے بات قران سے بھی ثابت ہو رہی ہو ۔ اپنی بات منوانے کے جنون نے انسان کو جہاں تیز مزاجی اور عدم برداشت تحفے میں دی ہے وہیں نفرت کی پنیری اب جوان درخت ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستو ۔۔!
انسانی رویئوں پر لیکچرز میری تعلیم کا ہمیشہ حصہ رہے ہیں ۔ آج میں آپ کو وہ مثال بتاتی ہوں جو ہمارے پروفیسر نے ہمیں سمجھانے کے لئے بتائی تھی ۔ انہوں نے کہا شہر میں خوبصورت سی عمارت تعمیر ہو رہی تھی ۔ ایک دن مینجمنٹ ٹیم کا ایک بندہ وہاں پہنچ گیا ۔۔۔ اس نے سوچا اپنے مزدوروں سے پوچھے کہ ان کا کیا حال چال ہے ۔۔ وہ ایک مزدور کے پاس پہنچا اور پوچھا “ کیا ہورہا ہے بھائی “ ۔۔۔ جواب میں اس مزدور نے اسے غصے سے دیکھا اور تیز آواز میں جواب دیا “ نظر نہیں آرہا پتھر کوٹ رہا ہوں ۔۔قسمت خراب ہے اور کیا “ ۔۔۔ پھر مالک دوسرے مزدور کے پہنچا اور اپنا سوال دہرایا “ کیا ہورہا ہے بھائی “ ، اس نے آنکھ اٹھا کر مالک کو دیکھا اور تھکی ہوئی آواز میں بولا “ کرنا کیا ہے صاحب ، پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے جو کہہ دیتے ہیں وہی کر رہا ہوں “ ۔۔ اب مالک تیسرے مزدور کے پاس پہنچا اور اپنا سوال دہرایا “ کیا ہورہا ہے بھائی “ ۔۔ مزدور نے مسکرا کر اسے دیکھا اور کہا “ بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اتنی حسین عمارت بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں “ ۔۔۔
اب دیکھئے تینوں مزدور ایک ہی کام کر رہے ہیں لیکن سوچنے کے انداز نے ایک کو “ منفیت اور آزار “ ، دوسرے کو “ تھکن “ ، اور تیسرے کو مثبت انداز فکر نے “سکون اور طمانیت “ سے بھر رکھا تھا ۔۔۔ یقین جانیئے انسانی رویئے ہی زندگی کا انجام لکھتے ہیں ۔۔!
ڈاکٹر نگہت نسیم













