طارق بٹ… ووٹر کو بھی عزت دیں

0
664

کوئی ایک لکھنے والا جس نے نہ لکھا ہو کوئی ایک بولنے والا جو نہ بولا ہو خدارا سیاسی جماعتوں کو جماعتیں بنائیں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں مگر شخصی سحر اور ووٹ بینک کے زعم میں مبتلا بڑے سیاستدانوں نے ان خلوص سے بھرے مشوروں کو کبھی اہمیت نہ دی یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں جسے صیحح معنوں میں سیاسی جماعت کہا جا سکے-

ایک دور تھا جب جماعت اسلامی مذہبی جماعت ہونے کے باوجود ایک سیاسی جماعت بھی تھی کہ اس میں نہ صرف کارکنان کی تربیت کا ایک جامع نظام تھا بلکہ ہر کارکن کو عزت بھی دی جاتی تھی کہ شوری کے اجلاسوں میں ایک عام کارکن جو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر شوری کا رکن منتخب ہو جاتا وہ بھرے اجلاس نہ صرف صوبائی بلکہ مرکزی امیر تک سے کڑوے کسیلے سوالات کر لیا کرتا اور امیر ان سوالات کے جوابات دینے کے پابند ہوتے سوالات کی روایت تو تا حال جاری ہے مگر کارکن کی تربیت اور اس سے رابطہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے یہی وجہ ہے کہ تقریبا ہر انتخابی حلقے میں پندرہ سے بیس ہزار ووٹ رکھنے والی جماعت اسلامی کا ووٹ بینک سکڑ کر ہزاروں سے سینکڑوں پر آ گیا ہے –

پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر دور اقتدار میں عام کارکن کو پاوں کی ٹھوکر سے وزیر کے دفتر کا دروازہ کھولتے ناچیز نے دیکھا مگر وہاں بھی بنیادی غلطی یہی ہوئی کہ کبھی بھی جماعت کو نچلی سطح تک منظم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی گاوں اور گوٹھ کی سطح پر نہ سہی یونین کونسل تک تو جماعت کی بنیاد ضروری ہے کہ یہیں سے تیار ہونے والی کھیپ آگے جلسوں جلوسوں اور اجتماعات میں کام آتی ہے اس سلسلے میں قطعا کوئی کام نہیں ہوا اسی لئے جیالا بھی اپنی اعلی قیادت سے لاتعلق ہو کر بیٹھ گیا اور آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ انتخابات کے وقت لاتعداد حلقوں میں پیپلز پارٹی کو امیدوار تک نہیں ملتے –

مسلم لیگ ن نے سب سے طویل عرصہ اقتدار میں گذارا دوران اقتدار تو ویسے بھی گردن میں سریئے آ جاتے ہیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی جماعت کی قیادت نے کبھی بھی پارٹی کو نچلی سطح تک منظم کرنے کی کوشش نہیں کی دعوے تو بہت کیئے جاتے ہیں کہ تمام تنظیمیں توڑ دی گئیں اب نچلی سطح تک تنظیمیں بنائی اور متحرک کی جائیں گی مگر یہ دعوے تاحال دعوں کی حد تک ہی محدود ہیں-

گزشتہ تقریبا ڈیڑھ سال سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت جن مشکلات سے دوچار ہے اس سے عام کارکن کی لاتعلقی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے اگر ان دونوں بڑی جماعتوں نے ووٹ کے ساتھ ساتھ اپنے ووٹر کو بھی عزت دی ہوتی تو آج شائید تنہائی کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتیں آصف علی زرداری اور نواز شریف دونوں شدید بیمار ہیں مگر بیماری کے باوجود ان کی مشکلات کم ہونے میں نہیں آ رہیں کچھ کارکنان سوشل میڈیا پر تو اپنی قیادت کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آواز بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر وقت کی قربانی اور جسمانی مشقت سے کوسوں دور ہیں ڈیڑھ سال میں قیادت کے حق میں دونوں جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے کوئی ایک بھی قابل ذکر یا پر اثر احتجاج پاکستان کے کسی بھی کونے میں دیکھنے کو نہیں ملا بجا کہ مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے چند بڑے بڑے جلسے کیئے مگر کارکنان کی جانب سے خود آگے بڑھ کر کیا جانے والا کوئی ایک بھی احتجاج کم از کم درویش کی آنکھیں تو نہیں دیکھ پائیں-

اپنے اپنے دور اقتدار میں دونوں بڑی جماعتوں نے بھر پور کوشش کی کہ پہلے تو جماعت میں انتخابات ہی نہ ہوں اور اگر الیکشن کمیشن کی شرط پوری کرنے کے لئے دکھاوے کے انتخابات کا ڈھونگ رچانا ہی پڑے تو مرکز اور صوبے تو کجا تحصیل کی سطح پر بھی اپنے چاپلوس براجمان کیئے جائیں وہ بھی وہاں جہاں کوئی اپنا بھائی ، بیٹا ، بیٹی ، داماد یا کوئی قریبی عزیز دستیاب نہ ہو پائے عام کارکن کی ذمہ داری صرف جلسوں اور جلوسوں میں شرکت ، کرسیاں اور دریاں بچھانے ، نعرے لگانے اور بوقت ضرورت ڈنڈے کھانے تک محدود رہتی ہے مسلسل اس کیفیت سے دوچار کارکنان نے مایوس ہو کر جماعتی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو دور کرنا شروع کر دیا ہے کبھی کبھی جذبات میں آ کر جلسے یا کسی اجتماع میں شریک ہو جاتے ہیں مگر کچھ عرصہ پہلے کارکنان کی اپنی اپنی جماعتوں اور قیادت سے جو دلی اور نظریاتی وابستگی دیکھنے کو ملتی تھی وہ آج ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے –

آصف علی زرداری اور نواز شریف دونوں شدید بیمار ہیں اور اسپتالوں میں علاج کروا رہے ہیں مگر وہ جنہیں انہوں نے خرید کر انمول کر دیا اور جو بڑی بڑی گاڑیوں میں اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں ان میں سوائے چند کے کوئی بھی نہ تو کبھی اسپتال کے سامنے دکھائی دیا اور نہ ہی اپنے ان قائدین سے اظہار یکجہتی کے لئے جیل کے باہر نظر آیا ان کے رویے سے یوں لگتا ہے کہ وہ بھٹو یا نواز شریف کے ووٹ بینک سے انمول نہیں بنے بلکہ اپنی شخصیت کے بل بوتے پر ممبر اسمبلی اور سینیٹر منتخب ہوئے ہیں-

طویل سیاسی زندگی اور ایوان اقتدار کی غلام گردشوں کے بھید جاننے والے نہیں معلوم کہ یہ بھید آج تک کیوں نہ جان پائے کہ کسی بھی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے کارکنان ہوتے ہیں فصلی بٹیرے جب تک کھیت میں فصل موجود ہے دانہ چگنے کے لئے آن پہنچتے ہیں مگر جوں ہی کھیت فصل سے خالی ہوا پرندوں نے اڑان بھر کے کسی اور ہرے بھرے کھیت میں جا بسیرا کرنا ہے ذہن نشین کرنے والی بات یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ ، خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر رضا ربانی جیسے مخلص کارکنان کو اگر آپ ان کی حیثیت کے مطابق اہمیت نہیں دیں گے تو پھر وہی منظر دیکھنے کو ملے گا جو ہم نے مار کھانے اور جیل کاٹنے کے لئے جاوید ہاشمی اور اقتدار کے مزے لوٹنے کے لئے چودھری نثار علی خان کے روپ میں دیکھ رکھا ہے کہاں ہیں آج چودھری نثار کہ شدید بیماری کے باوجود اپنے قائد اور دوست نواز شریف کو ایک بار بھی دیکھنے نہ جا سکے جب کہ جاوید ہاشمی اچھی طرح چلنے پھرنے اور بولنے کی طاقت نہ رکھنے کے باوجود کبھی کوٹ لکھ پت جیل اور کبھی سروسز اسپتال کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہر کر کارکنان کے حوصلے بڑھا رہا ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں پھلنا اور پھولنا چاہتی ہیں تو صرف ووٹ کو ہی نہیں بلکہ ووٹر کو بھی عزت دینا سیکھیں…!

SHARE

LEAVE A REPLY