امریکا نے پاکستان سے جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی دوبارہ گرفتاری اور سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ انکار کی صورت میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی طور پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا، حافظ سعید کی نظر بندی سے رہائی کی ‘شدید مذمت’ کرتا ہے۔

انھوں نے حافظ سعید کی ‘دوبارہ گرفتاری اور سزا دینے’ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کی جانب سے مقدمے اور سزا دلوانے میں ناکامی کے بعد حافظ سعید کی رہائی سے عالمی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم پر منفی پیغام گیا ہے’۔

مزید پڑھیں:حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کی درخواست مسترد
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘یہ قدم پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرنے دینے کے دعوے کو بھی جھٹلاتا ہے’۔

پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘اگر پاکستان حافظ سعید کو قانونی طور پر حراست میں لینے اور انھیں ان کے جرائم پر سزا دینے کے لیے اقدامات نہیں کرتا ہے تو اس سے دوطرفہ تعلقات اور عالمی طور پر پاکستان کی ساکھ پر نتائج بھگتنے ہوں گے’۔

خیال رہے کہ ہندوستان کی جانب سے 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار حافظ سعید کو ٹھہرایا گیا تھا جہاں 168 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ امریکا نے انھیں دہشت گرد کا درجہ دیا تھا۔

امریکا کے محکمہ انصاف نے حافظ سعید کی سزا اور گرفتاری کے حوالے سے معلومات دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کردیا ہے۔

یاد رہے کہ حافظ سعید کو رواں سال 31 جنوری کو 90 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY