ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

0
1032

پاکستانی نوجوان نے خون نکالے بغیر گلوکوز کی پیمائش کا آلہ بنا لیا

اقرا یونیورسٹی کے طالب علم نے ذیابیطس کے مریضوں کیلئے ایک آلہ تیار کیا ہے جس کی بدولت سوئی چبھوئے اور خون نکالے بغیر خون میں گلوکوز کی درست پیمائش کی جاسکتی ہے اور نبض کی رفتار کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی کے طالب علم فیضان احمد نے اسے ‘غیر تکلیف دہ خون کے ٹیسٹ’ یا نان انویسیو بلڈ ٹیسٹ کا نام دیا ہے۔ دوسال کی محنت اور تحقیق کے بعد بنائی جانے والی اس ڈیوائس میں سوئی چبھو کر خون کے قطرے نکالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ دستی آلہ انفراریڈ، ایل ای ڈی، فوٹو ڈایوڈ، آئی سی اور دیگر سرکٹس پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 سے 4 کروڑ کے درمیان ہے۔

اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر فیضان نے اپنے استاد ڈاکٹر عرفان انیس کی سرپرستی میں ایسے نظام پر کام شروع کیا جو بار بار سوئی چبھو کر خون نکالنے کی ضرورت ختم کر دے۔ اس آلے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کی لاگت ڈیڑھ ہزار روپے ہے جو ہر ایک کی پہنچ میں ہے۔ یہ آلہ ان لوگوں کیلئے مفید ہے جنہیں دن میں بار بار خون میں گلوکوز ناپنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ڈیوائس میں ایک گول ڈبیا ہے جس میں انفراریڈ روشنی والی ڈایوڈز اور سینسر نصب ہیں۔ جیسے ہی کوئی شخص اس سیاہ ڈبیا میں انگلی رکھتا ہے تو روشنی انگلی پر پڑتی ہے۔ خون کی رنگت دیکھتے ہوئے ڈیوائس ڈسپلے پر نتیجہ دکھتا ہے کہ خون میں شوگر کا لیول اب کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY