پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عارف علوی کا کہنا ہے کہ زاہد حامد اگر پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے تو ملک بھر میں اتنی کشیدگی پیدا نہ ہوتی۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز آئی’ میں گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ ختم نبوت ﷺ کا مسئلہ شروع ہوتے ہی انہوں نے زاہد حامد کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا تھا، اگر وہ پہلے مستعفیٰ ہوجاتے تو یہ سب نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں لوگ دھرنے سے پریشان تھے، حکومت گھٹنے ٹیک کر اپنی کرسیاں بچانے کے چکر میں لگی ہوئی تھی لیکن آرمی نے اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

پی ٹی آئی رہنما کا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور یہ حکومت پچھلے ایک سال سے نواز شریف کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: کارکنان کی رہائی کے بعد دھرنا ختم ہوگا، خادم حسین رضوی

انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے میں حکومت خود پہلے فوج کو طلب کرتی ہے اور جب فوج معاملے کو پرامن طریقے سے حل کر دیتی ہے تو پھر وہ چاہتے ہیں فوج کو کریڈٹ بھی نہ جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY