گزشتہ مضمون میں ہم نے لکھا تھا کہ اگر واقعی اسلام سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کریں؟اگر نام کے لیئے مسلمان بننا ہے اس سے فائدہ اٹھانا نہیں ہے۔ تو بس کلمہ پڑھ لینا کافی ہے؟اور اگر پیدائشی مسلمان ہیں تو اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس سے آپ کو فائدہ اٹھانا ہے تو اس کو سمجھنا ضروری ہے اور اسے سمجھنے کے لیئے قرآن اور اسوہ حسنہﷺ کو پڑھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ کہیں یہ نہیں لکھا کہ جو ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے گاوہ جنت کا حق دار ہوجا ئے گا جو ہر مومن کی دائمی قیام گاہ ہے۔اس کے لیئے ہر ایک کے پاس اعمال صالح کا بہت بڑا ذخیرہ ہونا ہی شرط نہیں ہے سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ وہ دکھاوے کے لیئے نہیں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیئے ہو؟ اس کے لیئے اس نے ایک دن مقرر کردیا ہے جسے ہم قیامت کہتے ہیں اگر دین پر عمل ہی نہیں کیا تو پھر فیصلہ وہ کس چیز پر کریگا۔جبکہ اس سے بڑا منصف کوئی نہیں ہے ؟پرچہ سادہ اگر طالب علم کے پاس ہے تو وہ اس کے حامل کو پاس نہیں کرسکتا ہے۔ شفاعت کے لیئے اس نے پہلے سے شرطیں لگائی ہوئی ہیں کہ شفاعت میری مرضی کے بغیر نہیں ہوگی اور اس کی ہوگی جس شفاعت میں چاہونگا ۔اس کے لیئے قرآن کی گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں ہر مسلمان کے گھر میں طغرے کی شکل میں آیت الکرسی آویزاں ہے اس میں پڑھ لیجئے میں جو کہہ رہا ہوں اس کی تصدیق ہوجا ئیگی جبکہ قر آن میں ایک جگہ اس نے یہ فرمایا کہ بشرط ِ ِ شفاعت کرنا والا بات بھی معقول کہے؟کیا اس کے سامنے بھی جو کہ خود ہرچیز پر گواہ ہے اور اس کے علم میں ہے؟ کو ئی معقول آدمی جو کہ اس کے یہاں اہمیت رکھتا ہو اس
د ن زبان کھولنے ہمت ہو گی؟ ہر عاقل آدمی جس سے آپ پوچھیں گے تو فوراً کہدے گا نہیں بالکل نہیں۔ اگر اس نے قرآن شریف پڑھا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کو ئی ایمان اور بے ایمان برا نہیں ہوسکتا۔ اند ھا اور آنکوں والا برابر نہیں ہوسکتا۔
ہاں اس نے یہ ضرور قرآن میں ارشاد فرمایا ہے۔ ہر ایک نیک آدمی کو اس دن شفاعت کی اجازت ہوگی۔معصوم بچے جو شیرخواری میں مر گئے ہوں وہ اپنے والدین کی سفارش کر یں گے اور وہ والدین جو کہ جنت کے حقدار ہو نگے تو اپنے خاندان کو یکجا کرنے کے لیئے اپنے سے کم ترین درجے کے بچوں کو اپنے درجہ کی جنت میں لانے کی اجازت حاصل کر لیں گے۔ چونکہ جنت کے بھی درجات ہیں اس کا بھی فیصلہ اسی دن ہوگا اور اعمال صالح پر ہوگا۔ شفاعت کریں گے وہ لوگ جو فلاح پاچکے ہوںں گے۔ کوئی عام کلمہ گو بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے جیسا کہ ہم نے گزشتہ مضمون میں ذکرکیا تھا کہ سورہ فاتحہ کا جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مانگنے کا طریقہ بتا یا ہے اورسورہ والعصر کا کو پیش کیا تھا جو قر آن میں سب سے جامع اور آسان ہے۔وہ چھوٹی سورت اگر سمجھ میں نہ آئی ہو تو پھر بڑی سورت البقر ۃکے صرف پہلے رکوع کو لے لیجئے۔ جس میں پوری طرح فلاح پانے کی ترکیب نازل کی ہے اس کو ہی پڑھ کر عمل کر لیں تو پورے قر آن کے مقابلے میں عمل کرنا بھی آسان ہے۔ اس میں نتیجہ بھی فورا ً مل جائے گا اگر اپنا احتساب کریں گے تو۔ بس یوں سمجھ لیں لے کہ ممتحن نے یو م ِ احتساب سے پہلے پرچہ ہی آؤٹ کردیا ہے پھر بھی طالب علم اس دن فیل ہو جا ئے جس دن احتساب ہونا ہے ناممکن ہے۔ بسم اللہ کر کے آج سے ہی شروع کردیجئے۔ال م۔ ۔کے معنی کسی کو نہیں معلوم ہیں۔اس پر بحث کو چھوڑیئے کہ بہت طویل ہے۔ اس سےآگے میں اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں کہ“ یہ وہ کتاب (قرآن) ہے جس میں شک اور شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے “ اگر دل میں شک و شبہ ہے تو آپ کی اسلام میں کوئی گنجا ئش نہیں ہے؟ یہیں سے واپس ہو جا ئیں۔ اگر شک و شبہ گھر چھوڑ آئے ہیں تو آگے بڑھیئے اس کتاب (قرآن) میں ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیئے ہے (یہاں لفظ متقی استعمال ہوا ہے جوکہ بہت وسیع لفظ ہے لیکن مفسرین نے ہر جگہ اس کے معنی یہ ہی لیئے ہیں اللہ سے ڈرنے والے) لیکن اس کی صفات کوسامنے رکھتے ہوئے ڈریں گے کہ وہ داناو بینا ہے تو کوئی غلط کام کر نا تو بڑی بات ہے اس کا ارادہ بھی نہیں کرسکتے؟کیوں۔؟اس لیئے کہ آپ اسے شبہ سے بالا ترمان چکے ہیں جیسا اگلی آیت کہہ رہی کہ ایمان اس پر ہے کہ وہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ عالم اللہ عالم غیبہے کاعلم ہے۔نمازی بن چکے ہیں۔ جو کچھ بھی ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے وہ ہمارے راستہ میں خرچ کرتے ہیں جو پہلی کتابوں سے آخری کتاب تک اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ ہی لوگ ہدایت پر ہیں اور فلاح پانے والے ہیں۔ (یہ میں نے آپکی آسانی کے لیئے مفہومی ترجمہ کردیا ہے آپ خودقر آن میں جاکر اس کی تفسیر پڑھیں جو کہ بہت طویل ہے اس چھوٹے سے مضمون میں نہیں آسکتی؟













