یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کا اعلان آج متوقع

0
48

عالمی رہنماؤں کی شدید مخالفت کے باوجود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا اعلان کرنے والے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس اہم پالیسی فیصلے کا اعلان واشنگٹن ڈی سی کے وقت کے مطابق بدھ کی صبح وہائٹ ہاؤس میں ایک خطاب کےد وران کریں گے۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ امریکی محکمۂ خارجہ کو اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے انتظامات شروع کرنے کا حکم دیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہےکہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی میں کئی برس لگ سکتے ہیں جس کے باعث صدر ٹرمپ بدھ کو اپنے خطاب کے بعد ایک حکم نامے پر بھی دستخط کریں گے جس میں سفارت خانے کی منتقلی میں عارضی تاخیر کی منظوری دی جائے گی۔

امریکہ کے سابق صدر بِل کلنٹن کی حکومت میں 1995ء میں منظور کیے جانے والے ایک قانون کے مطابق امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی ضروری ہے الا یہ کہ امریکی صدر ہر چھ ماہ بعد ایک حکم نامے پر دستخط کریں جس میں یہ بتایا جائے کہ اگر سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا گیا تو اس سے امریکہ کی قومی سلامتی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔

صدر کلنٹن کے بعد سے تمام امریکی صدور بشمول صدر ٹرمپ ہر چھ ماہ بعد اس حکم نامے پر دستخط کرتے رہے ہیں۔

سفارت خانے کی منتقلی کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی فلسطینی علاقوں میں امریکہ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے
سفارت خانے کی منتقلی کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی فلسطینی علاقوں میں امریکہ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے
صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے موقف سے متصادم ہے جو یروشلم کو مقبوضہ علاقہ قرار دیتے ہیں۔

کئی عرب اور مسلم ملکوں کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ان کے اس اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں لیکن امریکی حکام کا کہناہے کہ ٹرمپ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا حکم دے دیں گے۔

اسرائیل کی یہ خواہش ہے کہ امریکہ اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرے کیوں کہ اس کے نتیجے میں اسرائیلی حکومت کو یروشلم پر اپنے قبضے کو عالمی برادری کی طرف سے قانونی تسلیم کرانے میں مدد ملے گی۔

اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران یروشلم پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد اس نے مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست میں شامل کرلیا تھا۔

اسرائیلی حکومت کا موقف رہا ہے کہ پورا یروشلم ہمیشہ سے اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت رہا ہے۔ لیکن عالمی برادری اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔

رواں سال مئی میں صدر ٹرمپ کے دورۂ اسرائیل کی ایک تصویر جس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو بھی موجود ہیں
رواں سال مئی میں صدر ٹرمپ کے دورۂ اسرائیل کی ایک تصویر جس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو بھی موجود ہیں
فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں جہاں مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ واقع ہے۔

اسی علاقے میں ‘ٹیمپل ماؤنٹ’ بھی ہے جو یہودیوں کا مقدس ترین مقام ہے جب کہ یہاں مسیحیوں کے بھی کئی مقدس مقامات واقع ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ایک تاریخی اور موجودہ حقیقت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یروشلم نہ صرف تاریخی طور پر یہودیوں کا دارالخلافہ رہا ہے بلکہ یہ 1948ء میں اسرائیل کی نئی ریاست کے قیام کے بعد سے اسرائیلی حکومت کا مرکز بھی ہے۔

اس اہم امریکی فیصلے کے باضابطہ اعلان سے قبل صدر ٹرمپ نے منگل کو چار عرب ممالک اور اسرائیل کے سربراہان کو ٹیلی فون کرکے اپنے اس فیصلے کے بارے میں اعتماد میں لیا۔

صدر ٹرمپ نے جن رہنماؤں کو ٹیلی فون کیا ان میں اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس، اردن کے شاہ عبداللہ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز شامل تھے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں ان ٹیلی فون کالز کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور صرف اتنا کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان رہنماؤں کے ساتھ یروشلم سے متعلق متوقع فیصلے پر بھی گفتگو کی۔

تل ابیب میں واقع امریکی سفارت خانہ۔ امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کی سکیورٹی سخت کرنے کا حکم دیا ہے
تل ابیب میں واقع امریکی سفارت خانہ۔ امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کی سکیورٹی سخت کرنے کا حکم دیا ہے
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان رہنماؤں کے ساتھ اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

بعض امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس اہم اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔

امریکی فیصلے کے خلاف مظاہروں کے اعلان کے پیشِ نظر یروشلم میں واقع امریکی قونصل خانے نے شہر کے قدیم علاقے، مغربی کنارے، بیت الحم اور جیریکو میں امریکی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے سفر پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی ہے۔

امریکی حکام نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارت خانوں اور دیگر تنصیبات کو بھی سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔

یورپی یونین نے بھی صدر ٹرمپ کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے اعلان سے دنیا بھر میں عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی جس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY