دنیا بھر میں ان کی 220 اقسام پائی جاتی ہیں

0
1472

الو ایک شکاری پرندہ ہے ۔۔جو دن میں سوتا ہے اور رات صبح یا شام کے وقت شکار پر نکلتا ہے۔ ان کی کچھ اقسام دن میں بھی شکار کرتی ہیں ۔۔ الو ایک وقت میں تین اطراف میں دیکھ سکتا ہے ۔۔۔ جبکہ انسان صرف 2 اطراف میں دیکھ سکتا ہے ۔۔ الو کی سننے کی حس بہت تیز ہوتی ہے ۔ یہ آواز کی سمت اور آنے والی آواز کے فاصلے کہ تعین بھی کر سکتے ہیں۔ الو اپنی گردن اور سر کو 270 ڈگری زاویے تک گھما سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ اپنی گردن کو الٹا موڑ کر پیچھلی سائیڈ پر بھی دیکھ سکتا ہے۔۔۔ الو زیادہ تر گروپ ( خاندان) کی صورت میں رہتے ہیں۔۔

ان کے پنجے اور چونچ نوکیلے ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنے شکار کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں۔۔۔

الو خاموش اڑان بھرتا ہے یعنی اڑتے وقت دوسرے پرندوں کی طرح ان کے پروں کی آواز سنائی نہیں دیتی ۔۔۔

==خاندان

دنیا میں الو کے 6 خاندان پائے جاتے تھے لیکن اب صرف 2 خاندان باقی ہیں ۔ جو 2 خاندان باقی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں

1 ۔ عام الو 2 ۔ بران الو

1۔ بران الو bran owl ان کی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں۔چہرہ دل کی شکل کا اور پلین ہوتا ہے ۔( وہ دل جو ہم محبوب اور محبوبہ ے لیے میسج یا خط میں بناتے ہیں ۔ ان کے کان نمایاں نہیں ہوتے ۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں ۔۔۔ ان کی شکل کی وجہ سے آپ آسانی سے انہیں پہچان سکتے ہیں ۔۔۔یہ درمیانے سے بڑے سائز میں پائے جاتے ہیں ۔

پوری دنیا میں ان کی 16 جبکہ پاکستان میں ان کی صرف 1 قسم پائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں پائی جانے والی اس قسم کا سائز بڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔ان کے پر واٹر پروف نہیں ہوتے ۔

2۔ عام الو typical owl ان کی چونچ لمبی اور چہرہ بھی قدرے لمبوترا ہوتا ہے۔ ان کے کان لمبے اور نمایاں ہوتے ہیں ۔۔۔آنکھیں بڑی بڑی ہوتی ہیں اور آنکھوں کے گرد پروں کا دائرہ نما ڈیزائن بنا ہوتا ہے ۔۔۔۔یہ چھوٹے اور بڑے سائز میں پائے جاتے ہیں ۔۔۔ان کے پر واٹر پروف ہوتے ہیں ۔۔

دنیا بھر میں ان کی 220 اقسام پائی جاتی ہیں ۔۔۔۔

اہم بات ۔۔۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ الو کو شاید دن کے وقت نظر نہیں آتا تو آپ بالکل غلط ہیں ۔۔۔۔

الو کو دن کے وقت بالکل سہی نظر آتا ہے۔الو کی بعض اقسام دن کے وقت انسان سے بھی زیادہ تیز دیکھ سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ بات الگ ہے کہ رات کے وقت الو دن سے بھی زیادہ اچھا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔

مسکن کی تباہی کی وجہ سے الوؤں کی نسل بہت تیزی سے ختم ہورہی ہے ۔۔ بعض ممالک میں انھیں شکار کر کے خوراک کے تور پر بھی استمال کیا جاتا ہے ۔۔۔۔

۔۔ الو کی خوراک میں چھوٹے جانور ، پرندے ، حشرات اور رینگنے والے جاندار شامل ہیں ۔۔ان کی کچھ اقسام مچھلی کا شکار بھی کرتی ہیں ۔۔۔

سوائے انتہائی انچے برفیلے پہاڑوں اور چند جزیروں کے الو پوری دنیا میں پایا جاتا ہے ۔۔ الو زیادہ تر گھنے اور پرانے درختوں ، دیہاتوں ، پرانی عمارتوں اور سنسان جگہوں پر پایا جاتا ہے ۔۔۔

یہ اکثر کھیتوں میں موجود کھمبوں کی تاروں یا کھمبوں پر بیٹھا نظر آتا ہے۔۔

۔ نر اور مادہ زیادہ تر اقسام میں مادہ الو نر کی نسبت قدرے بڑی ہوتی ہے ۔۔

افریقہ میں الو کو موت بیماری اور بدبختی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔۔

جاپان میں اسے خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔

ہندو معاشرے میں اسے ایک دیوی (بھگوان کی پتنی) المعروف لکشمی دیوی کی سواری سمجھا جاتا ہے۔

مسلمان بھی اس کو ایک منحوس پرندہ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔

لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ الو بھی ایک عام سا اور بہت خوبصورت پرندہ ہے ۔۔۔

قدرت نے کوئی چیز بغیر مقصد کے نہیں بنائی ۔۔۔۔ الو کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنے بریڈنگ سیزن میں اپنے بچوں کی خوراک کے لیے چوہوں چھپکلیوں اور سانپ وغیرہ کہ شکار کرتے ہیں ۔۔۔ جس کی وجہ سے ان نقصان دہ جانداروں کی تعداد کنٹرول میں رہتی ہے ۔۔۔ ایک اندازے کے مطابق ایک الو اپنے بریڈنگ سیزن کے دوران ایسے 3 ہزار جانداروں کہ شکار کرتا ہے ۔۔۔

ہمارے معاشرے الو صرف گالی کے حوالے سے مشہور ہے، یعنی الو کا پٹھہ

SHARE

LEAVE A REPLY