حضرت آدم علیہ اسلام بحکم اللہ تعالیٰ اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ مکرمہ ہے اور حضرت جبرئیل علیہ اسلام کی ہدایت کے بمو جب خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی۔

حضرت جبریل علیہ السلام بہشت سے حجراسود کو لائے اوراس میں نصب کیا،جوآج بھی موجود ہے۔خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ اسلام کو حج اور طواف کے طریقے سکھائے۔اس کے بعد ایک پہاڑی پرلے گئے اور حج اداکرایا۔اس وقت حضرت حوّاعلیہ السلام بھی آگئیں اور حج میں شریک ہوئیں۔پہاڑی پر دونوں کا ملاقات ہوئی۔اس وجہ سے اس پہاڑی کا نام عرفات مشہور ہوا۔عرفات سے چل کر حضرت آدم حضرت حوا اس رات مزدلفہ میں رہے۔ اور یہ روایت آج بھی برابر جاری ہے۔

حجاج کرام دن کو عرفات میں اور رات کو مزدلفہ میں قیام کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مقام منیٰ اور پھر مکہ مکرمہ آئے اور خانہ کعبہ کا طواف بجالائے اور آج تک یہ عمل بھی برابر جاری ہے۔حضرت آدم کا بنائے ہوئے کعبہ کی حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک وقتاًفوقتاً حسب ضرورت اس کی مرمت ہوتی رہی،لیکن جب طوفان نوح آیا تو وہ تعمیر قائم نہ رہی۔صرف ایک ٹیلہ رہ گیا۔

اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے تیسرے بیٹے حضرت شیت علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر پتھر اور مٹی سے کی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے نویں پشت میںاور حضرت مسیح علیہ السلام سے تقریباً دوہزار برس پیشتر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لایا۔اس زمانے میں سلطنت بابل ’’موجودہ عراق‘‘ انتہائی عروج پر تھا۔

یہاں کے بادشاہ نمرود نے اپنی مالی برتری اور فوجی طاقت کے نشے میں خدائی کا دعوی کررکھا تھا اور اپنا ایک سونے کا بت بنواکر رعایا کو حکم دیا کہ اس کی پوجا کرو۔انہی گمراہوں کو راہ راست پر لانے کیلئے اللہ تعالیٰحضرت ابراہیم علیہ السلام کو معبوث فرمایا۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی اواز بلند کی توبادشاہ کو یہ بات پسند نہ آئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وطن سے ہجرت کی اور حضرت سارہ علیہ السلام بھی آپکے ساتھ تھیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام مصرپہنچے تواخیون نامی بادشاہ مصر نے آپ ? کی بہت عزت کی۔اس بادشاہ نے اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ کو آپ ? سے نکاح کردیا۔ حضرت سارہ نے بھی یہ تجویز پہلے ہیٰحضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیش کی تھی اورعرض کی کہ ہماری کوئی اولاد نہیں ہے شاید اسی سے کوئی اولاد ہوجائے۔ حضرت ابراہیم کو بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ تھی۔

آپ نے باہ گاہ ایزدی میں دعا کی جوقبول ہوئی اور حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اور کافی عرصہ کے بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق پیداہوئے۔ جس پرحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ان الفاظ میں ادا کیا۔’’اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا ہے‘‘۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل سے کہا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھربناؤں تو حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو آمادہ پایا تو حضرت جبرئیل امین نے آپ کی رہنمائی کی اور مقام دکھایا ،جہاں حضرت آدم نے اللہ کا پہلے گھر تعمیر کیا تھا۔

روایت میں آیا ہے کہ ملائکہ طور سینا،طور کوہ زیتا،لبناہ، جودی اور کوہ حرا سے پتھر اْٹھا اْٹھا کرلاتے تھے اور کعبہ کے پاس رکھ دیتے تھے۔جب بیت اللہ کی دیواریں آپ? کے قد کے برابر پہنچ تو آپ نے حضرت اسماعیل ? سے فرمایا کہ کوئی اونچا ساپتھر اٹھالا جس پر کھڑے ہوکر میں اپنا کام جاری رکھ سکوں توحضرت اسماعیل نے ایک پتھراٹھالایا جس پر کھڑے ہوکر آپنے تعمیر مکمل کی۔یہی پتھر کو مقام ابراہیم کہلاتا ہے۔

جب تعمیر مکمل ہوئی تو آپ نے حضرت اسماعیل سے کو فرمایا ’’کوئی ایسا پتھر لادو جو اِن پتھروں کے رنگ کا نہ ہو۔ حضرت اسماعیل ایسے پتھر کی تلاش میں گئے۔تو حضرت جبرئیل امین نے اللہ کے حکم سے کوہ ابوقیس سے وہ جنتی پتھر نکال کر حضرت ابراہیم کو دیا جو طوفان نوح کے وقت وہاں رکھ دیا گیا تھا، یہ پتھر حجراسود کہلایا جاتاہے۔دنیا بھر سے مسلمان حج کرنے کیلئے آتے ہیں اور حجراسود پر بوسوں کی بارش کردیتے ہیں۔

صدیاں گزرگئیں ہیں اور لوگ اس سیا ہ پتھر کو بوسہ دے رہے ہیں۔اس پتھر کو رسول رحمت نے بھی بوسہ دیا ہے اور یہ پتھر جنت کی ایک نشانی ہے۔ حضرت ابراہیم نے اس پتھر کو بیت اللہ کی عمارت کے اس کونے میں نصب کیا ،جہاں سے طواف شروع کیا جاتا ہے۔کئی بار کعبہ کو منہدم کیا گیا ،پھر تعمیر ہوا۔ سیلاب میںبھی بہہ گیا۔ حجراسود ہزرواں سالوں سے محفوظ چلا آرہا ہے اور عمارت ابراہیمی کی نشانی طواف کعبہ کی نشانی کے طور پر بھی کام دیتا ہے۔ یہی سے طواف شروع ہوتا ہے اور یہیں پہ اختتام پذیرہوتا ہے۔

اگر چہ یہ ایک پتھر ہے لیکن حضرت ابراہیم سے نسبت ہی اس کی خوبی ہے اور اسی خوبی نے اسے محبوب جہاں بنادیا ہے۔کتنے نبیوں ،ولیوں ، اور بزرگوں نے اسے چوما ہے اور جب ہم اسے چومتے ہیں تو یقین رکھتے ہیں کہ اسے چومنے کے تعلق سے کتنے ہی نبیوں ،بزرگوں اور خود رسول رحمت کے لب ہائے مبارک سے بالواسط لمس کا فخر ہمیں حاصل ہو جاتا ہے۔

مکہ کا ذرہ ذرہ بدل گیا ہے مگر حجراسود ،جس پر حضرت ابراہیم سے لے کر رسول اللہ تک کے بوسے ثبت ہیں۔جب دورجاہلیت میں کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی توحجراسود کو دوبارہ نصب کرنے کا وقت آیا ، ہر ایک قبیلہ کی خواہش تھی کہ یہ سعادت اسی کے حصہ میں آئے۔اس مسئلہ پر قریش دودھڑوں میں بٹ گئے اور خون ریزی کی شکل اختیار کرلی۔بالاآخر انہوں نے یہ تجویز مان لی کہ جو شحض سب سے پہلے کل حرم میں داخل ہواسی کو ثالث مقرر کیا جائے۔اگلے روز رسول اللہ ہی سب سے پہلے حرم میں داخل ہوئے تو اکابر قریش نے آپ کا خیر مقدم کیا۔آپ نے اس نازک موقع پر ایسا فصیلہ دیا کہ قریش آنحضرت ? کے مشورہ کو قبول کیا۔جس سعادت کے حصول کیلئے سرداران قریش خون کی ندیاں بہانے پر تیار ہوگئے ،وہ سعادت رسول اللہ کی ذات بابرکات کی طفیل سبھی کے حصے میں آگئی۔ہرایک قنیلہ اپنی جگہ مطمین ہو گیا۔رسول رحمت نے حجراسود کو ایک چاردر میں رکھ کر تمام قبائیلی سرداروں کو چادر پکڑنے کی ہدایت کی پھر اپنے دست مبارک سے اٹھاکر اصل جگہ پر نصب کردیا۔

حضرت ابراہیم نے یکم ذیقعدہ کو کعبہ کی تعمر شروع کی اور ۵۲ ذیقعدہ کو مکمل کرلی۔ جب حضرت ابراہیم ? خدا کے حکم سے مرکز توحید یعنی کعبہ تعمیر کررہے تھے تو اس وقت حضرت ابراہیم ? کے دل سے یہ دعا نکل رہی تھی : اے خدا !ہماری نسل سے امت مسلم کو اٹھا۔تو اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ڈھائی ہزار سال کے بعد ۲۱ ربیع اوّل 75عیسوی کی وہ مبارک صبح تھی جب رحمت الہی کے فیصلے کے مطابق پیغبرانقلاب اس دنیا میںجلوہ افروز ہوئے جو تقریباً ساٹھ پشتوں کے واسطے حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم سے مل جاتا ہے۔

اس نور نبوت نے جب دین کا اْجالاشروع کیا تو دنیا طرح طرح کی تاریکیوں او ر گہرے اندھیردں میں لپٹی ہوئی تھی۔جہالت نے ایک خدا کو خدائی میں ساجھے دار کتنوں کو خدا بنادیا تھا۔خاتم النبین نے اپنے عظیم الشان اصلاحات کا سنگ بنیاد اسی عقیدد توحید کو رکھا۔رسول رحمت ?نے بندہ کو اور خالق کے درمیان براہ راست ربط قائم کردیا اور درمیانی واسطوں کو مٹایا۔حضرت ابراہیم ? تعمیر کعبہ سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرئیل ? آئے اور آپ? کو حج کے مقامات دکھائے اور کہا اعلان کردیجیے لوگوں میں کہ وہ حج کیلئے آ ئیں۔حضرت ابراہیم نے کہا یا اللہ میری آواز لوگو ں تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘‘ آپ پکاریں ہم آپ کی پکار لوگوں تک پہنچادیں گے۔ حضرت ابراہیم نے کو ہ ابوقیس پر چڑھ کربہ آوازبلند پکارا ’’اے لوگو! اللہ نے ایک گھر بنایا ہے اور تم پر حج فرض کیا۔لہذا تم اپنے پروردگار کو لبیک کہو‘‘ حضرت ابراہیم نے چاورں طرف روئے مبارک کرکے یہی الفاظ دہرائے اور اللہ نے لبیک کہا۔ اس کے بعد آپ نے خودحج کیا۔حضرت ابراہیم ہر سال حج کیلئے آیا کرتے تھے۔روایت میں آیا ہے کہ پچھتر انبیائے علیہم السلام نے حج اور منیٰ میں نماز ادا کی۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ? نے مل کر کعبہ تعمیر کیا۔

اس کی تصدیق حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے ہوتی ہے’’وہ بنیاد جسے حضرت ابراہیم نے اٹھایا وہ پہلے ہی سے بیت اللہ کی تھی‘‘۔حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم جب حضرت آدم کی بنیاد تک پہنچے تو اس کی لمبائی نو ہاتھ اور چوڈائی تیس ہاتھ رکھی۔یہ پیمائش اپنیدست مبارک سے کی تھی۔( فتح الباری) جب میں یمن کا حاکم ابرہہ کعبے کو ڈھانے کیلئے مکہ پر حملہ آور ہوا تو اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت خود فرمائی اور ابرہنہ کی فوج کو نیست ونابود کردیا۔جس سال یہ واقعہ پیش آیا آہل عرب اسے ’’عام الیفل‘‘ (یعنی ہاتھیوں کا سال) کہتے ہیں اور اسی سال رسول رحمت کی ولادت باسعادت ہوئی۔

اکثر مورخین کہتے ہیں کہ آپکی ولادت اس واقعہ کے پچاس روز بعد ہوئی۔ اس کے کہ 8ھ میں رسول پاک نے کعبہ کو بتوں کے مجسّموں اور تصاویر کی غلاظت سے پاک کردیا تھا۔یزید حکومت 46 ھ میں اس کے کمانڈر حصین بن نمیر کندی نے مسجدالحرام کا محاصرہ کیا ،جہاں حضرت عبداللہ بن زبیر موجود تھے۔ یزیدی فوج نے سنگ باری کی اور کعبہ کو نقصان پہنچا۔ حجراسود تین جگہ سے پھٹ گیااور مسجدالحرام کو بھی نقصان ہوا۔دوران محاصرہ یزید کی موت کی خبر سن کر حصین بن نمیر کندی محاصرہ ختم کرکے مدنیہ ہوتاہوا شام واپس چلا گیا۔اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرمکہ کے حاکم مقرر ہوئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے کعبہ کی تعمیر پر از سرنو توجہ دی اور کعبہ کو منہدم کرکے ابراہیمی بنیادوں پر نئے سرے سے تعمیر کے کا م کا آغاز کیا۔

حضرت عبداللہ بن زبیرنے اہل مکہ کو بنیاد ابراہیمی کا مشاہدہ کرایا اور انہیں گواہ بنانے بعد کعبہ کی تعمیر مکمل کی اور کعبہ کی دیواورں کا طول وعرض حسب ذیل رکھا۔رکن حجراسودسے رکن عراق تک مشرقی دیوار 23ذراع۔رکن عراقی سے رکن شامی تک شمالی دیوار 22 ہاتھ۔رکن شامی سے رکن یمانی تک دیوار 13 ہاتھ۔رکن یمانی سے رکن حجرسودتک جنوبی دیوار بیس ہاتھ۔البتہ دیوار کی بلندی ۹۱ ہاتھ کے بجائے 72 ہاتھ رکھی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نے خود اس کام کو سرانجام دینا شروع کیا ،بعد میں لوگوں نے بھی ہاتھ بٹایا۔ تعمیر کعبہ کے دس سال تک چاروں ارکان کا استلام کیا جاتا رہا لیکن 57ھ میں حجاج بن یوسف نے کعبہ کو پرانی تعمیر کے مطابق یعنی دوارکان پر لوٹادیا جو آج تک قائم ہے۔

47ھ میں حجاج بن یوسف نے محاذ آرائی کرکے حضرت عبداللہ بن زبیرکو شہید کردیا۔پھر مکہ پر اپنا تسلط قائم کرکے اس نے عبدالملک بن مروان کو حضرت عبداللہ بن زبیرسے دشمنی کی بنیاد پر گمراہ کن خط لکھ کران پر کعبہ کی تعمیر میں ذاتی اختراعات کا الزام لگاتے ہوئے رودبدل کی اجازت چاہی۔اجازت ملنے پر کعبہ تعمیرات عہد جاہلیت کی تعمیر پر لوٹا دیا لیکن اگلے سال 57ھ میں عبدالملک بن مروان حج کیلئے آیا تو اسے اصل صورت حال کا علم ہوا تو اس نے کعبہ کو دوبارہ زبیری تعمیر پرلوٹانے پر آماد گی ظاہر کی لیکن علمائ[نے اجازت نہ دی۹۱ شعبان بروز بدھوار 1039ھ کی صبح مکہ مکرمہ میں شدید بارش سے سیلاب آیا جو مسجدالحرام میں داخل ہوگیا اور دو میٹر اوپر تک پانی ہوگیا۔ جس سے دیوار منہدم ہوگئی اور پھر چھت بھی گرگئی۔یہ سطان مراد خان آل عثمان کا عہد حکومت تھا۔پھر اسی سطان مرادنے کعبہ کو از سر نو تعمیر کروایا۔ سطان مراد کی تعمیر سابقہ تعمیر کی عین مطابق تھی، جو عہد زبیری تک قائم رہی۔ یہ کام23 جمادی الثانی 1040ھ میں شروع ہوا اور2 ذی الحجہ 1040ھ کو مکمل ہوئی۔

رسول اللہ کے عہد مبارک میں قریش مکہ نے کعبہ کو توسیع کی۔سترہویں ہجری میں حضرت عمربن خطاب نے توسیع کی۔پھر حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبداللہ بن زبیر، الولید المالک ، ابو جعفر المنصو،المہدی العباس،عبدالمجید الثمانی، شاہ عبدالعزیز السعود نے بڑے پیمانے پر توسیع کی اس کے بعد خادم الحرمین شاہ فہد کے ذریعے 1985سے1995 کے دوران توسیع کی ہے

محمد اشرف ڈار بن سلام

SHARE

LEAVE A REPLY