انسان میں سور کا دل ،سید ناظر کاظمی

0
670

پاکستان میں پیدا ہونے والے سرجن ٹیم میں شامل ڈاکٹر محمد محی الدین ہیں جنہوں نے سور سے انسان کے دل کی پیوند کاری کرکے تاریخ رقم کی۔
ڈاکٹر محمد محی الدین ٹرانسپلانٹیشن کے عمل میں شامل تھے جسے زینو ٹرانسپلانٹیشن کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد محی الدین، ایم ڈی، جو یونیورسٹی آف میری لینڈ سکول آف میڈیسن (UMSOM) میں کارڈیک زینو ٹرانسپلانٹیشن پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں، ٹرانسپلانٹیشن میں ایک اہم رکن کے طور پہ شامل تھے۔

زینو ٹرانسپلانٹ کیا ہے :

یہ ایک سرجری شعبہِ میڈیکل کی اصطلاح ہے ” جانوروں کے اعضاء کی پیوند کاری کو زینو ٹرانسپلانٹیشن کہا جاتا ہے۔ “

“زینو ٹرانسپلانٹیشن جانوروں میں اعضاء کی پیوند کاری تکنیک کو برسوں کی انتہائی پیچیدہ تحقیق کا نتیجہ کہا جاتا ہے ۔ ایف ڈی اے نے یہ تجرباتی کوشش سور پر انسانی جینز ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے دل کی بیماری کے آخری مرحلے کے مریض میں ٹرانسپلانٹ کے لیے کیا گیا ہے ۔کیونکہ جان بچانے کے لیے اس علاج کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا-

ڈاکٹر محی الدین کا تعارف:
ڈاکٹر محی الدین1989 میں کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ امریکہ چلے گئے اور پھر پینسلوینیا یونیورسٹی میں ٹرانسپلانٹیشن بائیولوجی میں پہلی فیلوشپ حاصل کی اور بعد میں انسٹی ٹیوٹ آف سیلولر تھیراپیوٹکس، ڈریکسل یونیورسٹی میں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن میں فیلوشپ حاصل کی۔

ڈاکٹر محی الدین نے مزید کہا ہے کہ آپریشن کے دوران ٹیم کو جو معلومات اور نتائج حاصل ہوئے ان سے مستقبل میں طبی شعبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “کامیاب طریقہ کار نے طبی شعبہ کو مستقبل کے مریضوں میں ممکنہ طور پر زندگی بچانے کے اس طریقہ کار کو بہتر بنانے میں مدد کرنے کے لیے قیمتی معلومات فراہم کی ہیں”۔

ڈاکٹر محی الدین نے میری لینڈ امریکہ کے رہائشی” ڈیوڈ بینیٹ ” کے جسم میں سور کے دل کی پیوند کاری میں ڈاکٹر بارٹلی پی گریفتھ، ایم ڈی کی مدد شامل تھی۔

بینیٹ کے بیٹے نے انڑرویو دیتے ہوئےبتایا کہ ٹرانسپلانٹ ایک انتہائی تجرباتی آپریشن تھا جس پر 57 سالہ “ڈیوڈ بینیٹ” نے اتفاق کیا تھا، کیونکہ وہ موت کے منہ میں جا رہا تھا اور اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا کہ ٹرانسپلانٹ کا طریقہ چنا جاتا ۔

” ڈیوڈ بینیٹ” نے آپریشن سے ایک دن پہلے ایک بیان میں کہا کہ “یہ یا تو مر جائے یا یہ ٹرانسپلانٹ کروائے”۔ میں جانتا ہوں کہ یہ اندھیرے میں گولی چلائی گئی ہے، لیکن یہ میری زندگی بچانے کے لیے آخری انتخاب ہے۔”

اہم ٹرانسپلانٹ مستقبل میں انسانی اعضاء کے بجائے جانوروں کے استعمال کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ کیونکہ عطیہ دہندگان کی طرف سے عضاء عطیہ کرنے کی شدیدکمی ہے۔

جانوروں کے اعضاء کی انسانوں میں پیوند کاری کی کامیابی کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں اسے 1984 میں، ایک بابول بندر کا دل ایک شیر خوار بچے میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا اور بچہ صرف 21 دن تک زندہ رہاتھا۔

لیکن سرجنوں نے کہا کہ اس بار خلیات سے شوگر کو ہٹانے کے لیے جین ایڈیٹنگ کا ایک قدم اٹھایا گیا تھا۔ شوگر انسانی جسم کی طرف سے جانوروں کے اعضاء کو تیزی سے مسترد کرنے کا باعث ہے ۔

امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، کا کہنا ہے کہ زینوٹرانسپلانٹیشن کا سرجری میں “ہمدردانہ استعمال” کو آگے بڑھنے کا فیصلہ کیاہے۔ جس سے مریض آخر کا بچ جائیں گئے۔
مغرب میں سؤر کو روز مرہ کی غدا میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اس کا دل لگانے میں کچھ معیوب نہیں سمجھا گیا۔

واضح رہے کہ مذہب اسلام میں سؤر کو بطور غذا حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے

“حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ…..” ترجمہ:تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سواء دوسرے کا نام پکارا گیا ہو۔
(سورہ المائدہ آئیت 3 کا ایک حصہ)۔
فتویٰ
طور پہ مصر کے دارالافتا نے اپنے ایک فتوے میں کہا ہے کہ اگر ‘مریض کی زندگی ختم ہونے، اس کے کسی عضو کی ناکامی، مرض کے پھیلنے اور شدید تر ہونے، یا جسم کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو’ تو سؤر کے دل کے والو انسان کو لگائے جا سکتے ہیں۔(فتوی کی تصدیق ہونا باقی ہے )
سید ناظر کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY