وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف صف بندی کی جارہی ہے، سیاسی مخالف سمجھتے ہیں کہ ہمیں گرانے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، موجودہ سیاسی صورت حال میں مسلم لیگ ن کو کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نےکہا کہ پیپلزپارٹی کی بس نکل گئی ہے، بدقسمتی سے پیپلزپارٹی سندھ کے دیہی علاقوں کی جماعت بن کر رہ گئی ،آصف زرداری شاطر آدمی ہیں، ان کے اپنے مسائل ہیں۔
سعد رفیق نے کہا کہ ہمارے بعض مخالف ایسے ہیں کہ ہمیں گرانے کے لیے اگر انہیں شیطان سے بھی اتحاد کرنا پڑا تو کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں اینٹی بھٹو اور پرو بھٹو سیاست ہوتی تھی، اب اینٹی نوازشریف اور پرو نوازشریف سیاست چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت بنیادی طور پر آئین اور ووٹ کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، آئین کی حکمرانی کا مطلب ہےکہ تمام ادارے، پارلمنٹ، عدلیہ، مسلح افواج سمیت مختلف سول بیورو کریسی کے ادارے آئین کےمطابق کام کریں اور حدود سے تجاوز نہ کریں۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ آصف زردری کے بہت ویک پوائنٹ ہیں، کرپشن کے الزامات اور بہت کیسز ہیں، ان کی پارٹی بھی ختم ہوچکی ہے جو لاکھوں ووٹوں سے سیکڑوں پر آچکی ہے، پیپلزپارٹی اب دیہی سندھ کی جماعت بن چکی ہے، ہمیں اس بات کی خوشی نہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں ختم ہونے سے سوسائٹی کو نقصان ہوتا ہے۔
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اورعمران خان میں مقابلہ ہے کہ کون بڑی گالی دیتا ہے اور کون زیادہ الزام لگاتا ہے، یہ لوگ گالی دینے اور زیادہ ووٹوں کےچکر میں حدود سے آگے نکل جاتے ہیں، ہمیں نقصان پہنچانے کی خواہش میں پاکستان اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچانا شروع کردیتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ سیاسی کردار اور کچھ روبوٹس ہیں، کچھ روبوٹس طاہرالقادری سےملتے ہیں، ملکی سیاست میں چوہدری برادران کا رول روبوٹس کا ہے، کراچی کی ایک جماعت خود مانتی ہے کہ وہ روبوٹ ہے، روبوٹ کی سیاست نے ہمیشہ ملکی سیاست کو خراب کیا، پتا نہیں روبوٹس کا ریموٹ کنٹرول کس کس کے پاس ہے۔
سعد رفیق نے کہا کہ قادری صاحب کو حالات کی نزاکت کا اندازہ ہونا چاہیے، وہ اپنےفیصلے خود کریں تو زیادہ بہتر کرسکتے ہیں، طاہرالقادری کا نکتہ اختلاف ان کا حق ہے، ماڈل ٹاؤن میں ان کی جماعت کے لوگ جاں بحق ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ مقدمات چل رہے ہیں انہیں چلنے دیا جائے اور عدالتوں کو فیصلے کرنے دیں۔
عام انتخابات سے متعلق سعد رفیق نے کہا کہ اللہ کرے انتخابات وقت پر ہوں، لیکن انتخابات کا تعلق آئینی ترمیم کے ساتھ ہے، حلقہ بندیوں کے لیے پیپلزپارٹی سینیٹ میں ووٹ ڈالنے سے گریزاں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY