مصر اور اردن نے فلسطینی پناہ گزین قبول کرنے کی تجویز مسترد کردی

0
863

مصر اور اردن نے غزہ کے شہریوں کو اپنے ملکوں میں قبول کرنے کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

مصری وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصری حکومت فلسطینی عوام کے اپنی سرزمین پر رہنے، ان کے جائز حقوق کے دفاع اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی حمایت کرتی ہے۔

مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے حال ہی میں فوجی افسران کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آسان ہو گا کہ کچھ فلسطینیوں کو صحرائے سینا میں آباد کیا جائے۔ لیکن مصر میں ہر کسی کے لیے اس آئیڈیا کو قبول کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

یونیورسٹی آف پیرس میں سیاسیات کے استاد خطار ابو دیاب کہتے ہیں کہ مصر کو مشکل معاشی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کی مصر میں فلسطینیوں کو آباد کرنے کی تجویز پر اس کی معیشت پر منفی اثرات ہوں گے جس کے سبب مصری عوام کا بڑا طبقہ انہیں اپنی سر زمین پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

امریکن یونیورسٹی آف قاہرہ کے سابق پروفیسر پال سلیوان نے بھی خطار ابو دیاب کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے وائس آف کو امریکہ کو بتایا کہ اس طرح کی کوئی تجویز مصریوں کے لیے ناقابلِ قبول ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مصر کا کوئی بھی رہنما جو اقتدار میں رہنا چاہتا ہے وہ کبھی اس طرح کی تجویز سے اتفاق نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اختتامِ ہفتہ مصر اور اردن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ سے مزید فلسطینیوں کو عارضی یا مستقل طور پر قبول کریں۔

انہوں نے اردن کے شاہ عبد اللہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ غزہ مسمار شدہ مقام ہے۔ وہاں سب کچھ مسمار ہو چکا ہے اور وہاں لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY