ہماری سوچ ہے کہ وہ انسان بہت بہادر ہوتا ہے جو اپنے ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا ہو سکے ۔اُس میں جھانک سکے ۔اگر غلطیاں ہیں تو معافی مانگے اور اگر نہیں ہیں تو فخر کر سکے ۔مگر شاید ہی سیاست میں کوئی ایسا چہرہ ہو اب تک حکومت کرنے والا جو اپنے ماضی میں جھانک کر سُر خرو ہوسکے ۔شاید سب ہی کو عوام سے معافی مانگنی پڑے گی ۔لیکن ہمارے سیاست دان تو جھکنے کو تیار ہوتے ہی نہیں ۔کہیں مافوق الفطرت چیزیں دیکھنے اور دکھانے لگتے ہیں یا رازوں کے انبار بتانے لگتے ہیں ۔ لیکن شاید جانتے نہیں کہ راز چھپانے والے خود بہت کمزور ہوتے ہیں کہ ان رازوں کو دبانے کے لئے ایسے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں جب کوئی کمزور لمحہ اُنہیں جکڑتا ہے مزہ اور بہادری تو جب ہے جب بغیر کسی منفعت کے ایسے رازوں پر سے پردہ اُسی وقت ہٹا دیا جائے جب وہ وقوع پزیر ہو رہے ہوں ورنہ آپ کتنے ووٹ کو عزت دینے والے ہیں یہ تو اُسی وقت کھل جاتا ہے جب ایسی باتیں کرتے ہیں کردار بھی کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور افکار بھی ۔صرف زات رہ جاتی ہے ملک اور قوم کہیں نظر نہیں آتی ۔یہ انتہائی اندوھناک بات ہے ۔
اآج کل شعوری یا لا شعوری طور پر ایلکشن کی تیاری ہے ۔اور ووٹ کی عزت کی بات بھی زوروں پر ہے ،یہ ایک پرچی ہی قسمت کے فیصلے کر دیتی ہے عوام کی قسمت کے بھی اور حکمران کی قسمت کے بھی ۔لیکن سب سے زیادہ اس پرچی کا نشانہ بنتا ہے اس کا دینے والا اسے ڈبے میں ڈالنے والا اس پر اپنا انگوٹھا لگا کر بتانے والا کہ میں اس ملک کا شہری ہوں اور عزت کا حق دار ہوں جو تم اس پرچی کو لیتے ہی بھول جاتے ہو پانچ سال تک۔ ویسے ہمیں پانچ سال کا عرصہ بہت لگتا ہے۔ اسے چار سال ہونا چاہئے ،تاکہ ایک سال مزید روندے نہ جائیں تمہیں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ اس کا دینے والا کس حال میں ہے ؟ اسکے گھر چولھا جلا کہ نہیں ،اس کے بچے اسکول جاتے ہیں کہ نہیں ،تعلیم اسکی دسترس میں ہے کہ نہیں ۔وہ بیمار ہو تو اسے علاج کی سہولت ملتی ہے کہ نہیں ۔دوائیں خرید سکتا ہے کہ نہیں ۔بلکہ تم نے تو اسکی قیمتی رائے کو بھی اپنے رازوں کی پوٹلی میں دفن کر دینا ہوتا ہے ۔کیونکہ یہ راز ہوتے ہیں کھوکھلے وعدے جو تم کرتے ہو ،جھوٹے دعوے جو تم سناتے ہو ،جھوٹے عہد جو تم کرتے ہو ۔تم تو اپنے حلف کا بھی پاس نہیں کرتے ۔جہاں ووٹوں کی پرچیوں کے بجائے اپنے ٹھپوں سے ڈبے بھرے جائیں ،وہاں جہاں ووٹ کا تقدس اس طرح پا مال کیا جاتا ہو وہاں ووٹڑ کا کیسا احترام ۔کیونکہ یہ پرچی تو کھولتی ہے سیاستدانوں کی قسمت محل بنانے کو ،مِل بنانے کو ،بینک بھرنے کو اور وہ بھی بیرونِ ممالک ۔کاش اآپ یہ راز بھی کھولیں کہ کس طرح سرمایہ لے جاتی ہے خلا ئی مخلوق حکمرانوں کا کہ کہیں سے سرا نہیں ملتا ۔
راز ضرور کھولیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتائیں کہ یہ راز اب تک کیوں چھپائے ۔بہت سے راز ایسے ہیں جن پر سے قوم بھی بے چین ہے پردہ اُٹھانے کی ۔کیوں اتنے سارے ایسے مقدمے جن کی باز گشت آج بھی اُسی شدت سے سنائی دے رہی ہے جتنی ماضی میں تھی کہ کس طرح اتنے اہم مقدمے سُلا دئے گئے اور کیوں ؟ نہ یہ راز لکھلا کہ بلدیہ کی فیکٹری کی آگ کیوں بھڑکی تھی؟ نہ یہ پتہ چلا کہ ماڈل ٹاؤن کی گولیاں کیوں برسی تھیں ۔نہ یہ راز کھلا کہ قرضے کس کس نے لئے اور کس کسنے معاف کئے ِ،نہ یہ عقدہ حل ہوا کہ پیسہ باہر کیسے چلا گیا۔نہ یہ راز کھلا کہ ایک شخص کس طرح ٹرالیاں بھر بھر کر لندن سے فائلیں لے گیا لیکن اآپ نے اُس پر سے پردہ نہیں اُٹھایا ان پانچ سالوں میں ۔یہ بھی بتائیں کہ عدلیہ بحالی کس کے کہنے پر ہوئی ۔ یہ بھی کھولیں کہ یہ موٹر ویز کس کس طرح وجود میں اآئیں ۔یہ بھی بتائیں کہ کہاں کہاں حکومت میں اآنے کے لئے کس کس سے ہاتھ ملائے ؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اگر عوام سے محبت ہے تو اس دفعہ ضرور ہمت کرلیں جاتے جاتے سب راز کھول جائیں بجائے ملک میں افرا تفری پھیلانے کے ۔
ہمیں تو لگتا ہے کہ پا ناما واقعئی خلاء سے اآیا کہ جاگ جاؤ دیکھو تمہارے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔ہم یہاں عمران خان کو ضرور خراجِ تحسین پیش کرینگے کہ اگر وہ کھڑا نہ رہتا تو یہ سارے گورکھ دھندے جو کھل کر سامنے اآرہے ہیں کبھی نہ اآتے کہ ایک اقامہ بردار بیرونی ملازم جو ہمارے حساس ادارے کے وزیر بھی ہیں کہہ ہی چکے تھے کہ میاں صاحب گھبراؤ نہیں سب بھول جائینگے لیکن یہ زندہ رہا کیونکہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے بھولنے نہیں دیا اور خلائی مخلوق نے اور بھی بہت سارے راز وں کے انبار لگا دئے نیب کے سامنے جو نظر بھی اآتے تھے اور نظر نہیں بھی اآتے تھے ۔ہمیں لگتا ہے کہ خلائی مخلوق بھی سچ اُگلنے کو تیار ہو گئی ہے اور وہ تمام کیس جو اوجھل ہوگئے تھے پھر نظر آنے لگے ہیں ۔
بس ہماری تو ایک ہی استدعا ہے کہ مقدمے جتنے بھی سامنے آئے ہیں انکے جلدی جلدی فیصلے سنائے جائیں تاکہ عوام کو سچ اور جھوٹ کا پتہ چل سکے ۔اور وہ اپنی پرچی کا استعمال اب صحیح اور اچھے لوگوں کے لئے کرے اور ،دروازے بند کر دے اُن سب کے جو چور دروازوں سے داخل ہوتے اور لوٹ کر نکل جاتے ہیں ۔کسی نے بہت اچھی بات کی جب کہا گیا کہ لوگوں کو جاگنا چاہئے انہوں نے کہا ،کہ لوگ سوتے ہی کہاں ہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جو جاگیں ۔لیکن یہ جاگنا اب اپنے لئے ہے ۔سب کو چاہئے کہ سوچ سمجھ کر لوگوں کا انتخاب کریں ۔
کاش میاں صآحب اور شھباز صاحب بجائے موٹر ویز اور سڑکوں کے پہلے آپ نے ڈیم بنائے ہوتے ،تاکہ پانی کا مسئلہ جو آگے جاکر اور بھی شدت اختیار کرے گا وہ حل ہوتا ہے ۔جس طرح سڑکیں اہم ہیں اسی طرح پانی اور بجلی اس سے بھی زیادہ اہم اور بڑا مسئلہ ہے ۔ہماری دعا ہے کہ اب آنے والے لوگ ان مسائل کو پہلے حل کریں ۔انصاف جتنا صاف شفاف اور جلد کیا جائے ہمارے لئے اتنا ہی اچھا ہوگا کہ جو لوگ مایوس ہیں انہیں کچھ ہمت ملے ۔بس اتنی دعا ہے کہ سب کے ضمیر جاگ جائیں کہ وہ اسی ملک کے باسی ہیں اور یہیں رہنا ہے ۔اسکے لئے سوچیں ۔
۔پاکستان زندہ باد

SHARE

LEAVE A REPLY