کراچی کی مشہور صحافی مننزہ سہام کےحوالے سے ان دنوں خبروں میں آنے والے فوج کے سابقہ کپتان جمیل احمد خان کے بارے میں حاصل کردہ چند معلومات جو ابھی ابتدائی ہیں مزید کا انتظار کیجئے
بعض انکشافات ہوش ربا ہوتے ہیں۔ پیروں تلے زمین سرک جاتی ہے ماضی کبھی بھی اتنا پرانا نہیں ہوتا کہ وہ حال کے پردوں میں چھپ جائے۔”
ایم این اے جمیل احمد خان کیا واقعی میں خان ہیں یہ سوال اہم اور جواب طلب ہے؟ اور احمد بھی ہو؟ تمہاری زندگی مکمل جھوٹ ہے ۔ مذہب تبدیل کرنا کوئی بری بات نہیں بلکہ دین حقہ قبول کرنا امتیاز کی بات ہے اور یہ بات تم کسی کو نہیں بتاتے کہ تم نے کس مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کیاَ
کتنے لبادے چڑھائو گے اپنے چہرے پر… فوج نے پہچانا تبھی تو لات مار کر باہر کردیا۔ سٹرک آف کا تمغہ سجا کر یہ دوغلہ سفاک اور ظالم انسان قومی اسمبلی کا ممبر کیسے بن گیا الیکشن کمیشن سوچے۔
Struck Off Evidence

وہ شخص جس کو اعلیٰ عدلیہ مفرور قرار دے چکی تھی بھگوڑوں والی زندگی بسر کرتے کرتے الیکشن میں کھڑا بھی ہوا اور جیت بھی گیا’ وہ بھی کراچی جیسے شہر سے۔ آخر ایسی کیا خدمات ہیں جن کے عوض کراچی کے عوام کی قسمت اس کی مٹھی میں دے دی گئی۔
واپڈا کالونی کے کوارٹر میں پیدا ہونے والا جمیل محض 4 سال میں زمین سے آسمان تک کیسا پہنچا؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔
لوگ اس کو معروف صحافی کے سابقہ شوہر کے نام سے جانتے ہیں کیا بس یہی اس کی پہچان ہے؟ کیا پی ٹی آئی بھی تو مجبور نہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہے۔ یا یہ پی ٹی آئی کے ساتھ سازش ہے کہ کرپشن سے لڑنے والی جماعت میں ایسے لوگوں کو شامل کردیا جائے جو بدنامی اور ناکامی کا باعث ہوں۔
اس شخص کا ایجنڈا کیا ہے ؟ یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ کیا مسلسل ایک عورت کو تنگ کرکے خبروں میں رہ کر یہ اپنی حقیقت تو نہیں چھپاتا؟
ان تمام سوالوں کے جواب ہمارے پاس موجود ہیں ہمراہ ثبوت ‘ ان سب کا انتظار کیجئے
مگر آپ بھی سوچیے بقول شاعر…
سر آئینہ میرا عکس ہے
پس آئینہ کوئی اور ہے
تیری داستاں کوئی اور تھی
میرا واقعہ کوئی اور ہے
یہ تمام معلومات مختلف مگر مصدقہ ذرائع سے ہماری تحقیقاتی ٹیم نے جمع کی ہیں لیکن ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
عالمی اخبار












