کرسمس عیسائیوں کا ایک مذہبی تہوار ہے ۔ جسے پوری دنیا کے عیسائی مذہب کے ماننے والے لوگ نہایت عقیدت اوراحترام سے مناتے ہیں ۔ روایت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۲۵ دسمبر مقبوضہ فلسطین کے شہر بیت الالحم میں پیدا ہوئے تھے ۔ آپ کی معجزانہ پیدائش نے اس وقت کے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا مگر اللہ پاک کی وحدانیت کو ماننے والے اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ ناممکن تخلیق صرف اللہ کریم کی قدرت میں ہے ۔
معروف مغربی مصنف ول ڈورنٹ اپنی مشہور کتاب ہسٹری آف سولائزیشن میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم اور مسلمانوں کا عیسائیوں پر ایک بڑا احسان ہے اور وہ یہ کہ انکے دین اور کتاب میں انجیل اور حضرت عیسی علیہ السلام کو انتہائی عزت اور بزرگی کے ساتھ یاد کیا گیا ہے اور انجیل کی تائید بھی کی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا کیونکہ انکی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مزار یا مقبرہ ہے ۔
ابتدائی دور میں یہ تہوار ایک سنجیدہ مذہبی تہوار تھا ۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش ۔ کرامات ، خدمات، قربانیوں کا ذکر ہوتا تھا ۔ نہایت سادگی کے ساتھ کرسمس کا دن منایا جاتا تھا۔ وقت بدلا سوچ بدلی تیرہویں صدی کے لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان ، عقیدت اور محبت میں گیت گانے لگے ۔ شاعروں نے قصیدے لکھے ،گیت کاروں نے ان قصیدوں کو آوازوں اور سازوں سے سجا دیا ۔ ان نغموں کو کیرول کہا جاتا ہے ۔ سنہ ۲۳۹ عیسویں میں اس مذہبی تہوار کو بادشاہ کونسٹینٹائن نے پہلی بار ۲۵ دسمبر کو ایک تہوار کی شکل دی ۔ پوپ جولیس اول نے ۲۵ دسمبر کے یادگار دن کو رسمی طور پر عیسیٰ مسیح کا روز تولد قرار دیا۔
کرسمس آنے سے قبل ہی کرسمس کی تیاریاں دنیا بھر میں عروج پر ہوتی ہیں لوگ اپنے گھروں ، سڑکوں کو روشنی اور پھولوں سے سجا دیتے ہیں ۔ اس دن تمام عیسائی مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کرسمس کیک ، کرسمس درخت تیار کرتے ہیں ۔ یہ مقدس درخت بچے بڑے مل کر تیار کرتے ہیں ۔ان درختوں میں موم بتی ، اخروٹ ، بھل چاند تارے گھنٹیاں سجائے جاتے ہیں ۔یہ دن سلامتی دعاوں مرادوں کا دن ہوتا ہے ۔ عورتیں بچے بڑے عید کے دن کی طرح یہ دن مناتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں اور کرسمس کارڈ تحفے کے طور پر ایک دوسرے کو عنائت ہیں ۔ یہ سب وہ اپنے عقیدے کے مطابق اپنے خدا یسوع مسیح کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ کیونکہ خدا دنیا میں امن ،سلامتی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ وہ مظلوم کی آنکھ میں آنسو برداشت نہیں کرتا ۔ کسی کی دل آزاری ہو یہ بات بھی اسے پسند نہیں ۔ اس دن کی خوشی میں لوگ اپنے آپس کی سارے اختلافات کو بھلا کر خدا کی شان میں تعریف بیان کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو محبت کی روشنی سے منور کرتے ہیں ۔
اس دن کی آمد سے قبل ہی بچوں کا سینٹا کلاز کے تحفوں کا انتظار شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ کب بچوں کے لئے کب اور کہاں گفٹ چھپا کر رکھ جائے یہ کوئی نہیں جانتا ۔ وہ گفٹ بچوں کو تکیے کے نیچے الماری اندر ،گھر کے گارڈن ، اسکول مارکیٹ کسی بھی کونے سے اس کا من پسند تحفہ دے جاتا ہے ۔ اور جن بچوں کو سانتا کلاز سے تحائف ملتے ہیں وہ پھولے نہیں سماتے ۔ یہ دن بچوں اور بڑوں کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ دن تمام مسیحی برادری کے دلوں میں محبت کا دیا روشن کرجاتا ہے ۔
کرن مہک













