پاکستانی معاشرہ بوجوہ دن بدن شدت پسند ہوتا چلا جا رہا ہے اور اسکی بہت سی مختلف النوع وجوہات ہیں۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں شدت پسندی کا عنصر موجود نہ ہو۔ عبادت، تجارت، سیاست، معیشت، تعلیم، صحت، دفاتر، ہسپتال غرضیکہ ہر شعبہ ہر جگہ اس شدت پسندی کی لعنت کا شکار ہے
ملک مں سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں اسقدر شدت پسند ہو چکی ہیں کہ انکے اثرات پورے سماج اور سوسائٹی پر پڑ رہے ہیں
اساتزہ چاہے مسجد مدرسے کے ہوں یا دنیاوی تعلیم کے سکولوں کے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہوشربا خبریں ایسی سامنے آتی ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر استاد شدت پسندی میں حیوانیت کی سطح پر اُتر آئے گا تو معاشرے کا کیا بنے گا
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جو ایک دینی مدرسے کی تھی جہاں استاد نے جس طرح ایک معصوم بچے پر تشدد کیا اس نے رونگٹے کھڑے کر دیئے۔ اس تشدد میں جنسی تشدد بھی شامل ہے
ضروری ہے کہ والدین بچوں پر نگہ رکھیں اور گاہے نگاہے ان سے اساتذہ کے بارے میں پوچھتے رہیں
اسی حوالے سے ایک تازہ ترین خبر کسی تبصرے کے بغیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنیوٹ: سبق یاد نہ کرنے پر استانی نے طالبات کے بال کاٹ دیئے
چنیوٹ میں سبق یاد نہ کرنے پر لیڈی سکول ٹیچر نے بچیوں کو انوکھی سزا دے ڈالی، ایلمنٹری ماڈل سکول کی استانی نے بچیوں کے سر کے بال کاٹ دیئے۔
چنیوٹ احمد آباد گرلز ایلمنڑی ماڈل سکول کی ٹیچر عاصمہ نے سائنس کا سبق یاد نہ کرنے پر متعدد طالبات کے بال کینچی سے کاٹ ڈالے، طالبات کا کہنا ہے کہ سکول ٹیچر نے بال کاٹنے کے بعد تمام بچیوں کو کمرے میں بھی بند رکھا۔
سکول ٹیچر عاصمہ کے خلاف والدین نے فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سی او ایجوکیشن محمد اسماعیل نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ٹیچر کو فوری معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا۔
ڈاکٹر نگہت نسیم













