پاکستان دنیا کے ان خوش نصیب ملکوں میں پہلے نمبر پر آتا ہے جس کی آبادی میں 64 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئےاللہ پاک کا انعام ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارا ملک سیاسی ، معاشی ، سماجی انتشار سے دوچار ہے اور نوجوانوں سے ہماری امیدیں ٹوٹتی جا رہی ہیں ۔
اگر ہم نئی نسل کوتین حصوں میں بانٹلیں توبات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی
1۔ ایسے نوجوان جو الحمدو للہ اپنی تمام تر زمیداریاں بحثیت مسلمان گھر اور باہر دونوں جگہ پر ادا کر رہا ہے یعنی زمیدار مسلم بھی ہے اور شہری بھی ۔
2۔ ایسے نوجوان جو بے راہ روی کا شکار ہیں چاہے انہیں تعلیم اور تربیت کی سہولت میسر ہو یا نہ ہو
3۔ ایسے نوجوان جو کشمش کا شکار ہیں یعنی زمیداری اٹھا بھی رہے ہیں لیکن نبھاہ بھی نہیں رہے ہیں
آج کی گفتگو کا مرکز غیرزمیدار نوجوان نسل ہے جو نہ اچھے مسلمان ہیں اور اور نہ زمیدار شہری ہیں
نوجوانوں کی گمراہی و اِنحراف جیسا بگاڑاس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ بلوغت کی عمر میں ہوتا ہے ۔ اس وقت انسان پر جسمانی، فکری اور عقلی حیثیت سے بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہوتی ہیں۔ اِنسانی جسم نشوونما طرف گامزن ہوتا ہے۔ ہر لمحہ نئے تجربات اور تازہ احساسات عقل و فکر کے دریچے کھولتے جاتے ہیں ۔ اور انسان سوچ و فکر کی نئی راہیں متعین کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری طرف جذبات کی شدت انہیں درست فیصلے نہیں کرنے دیتی ، یہی وہ موقع ہوتا ہے جب نوجوانوں کو راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر اس وقت اسے ماں باپ اور بزرگوں اور اساتذہ کی توجہ نہ ملے تو نوانوں میں بگاڑکے آثاریقینی صورت اختیار کر جاتے ہیں ۔
موجودہ سوسائیٹی کا مسلہ یہ ہے کہ وہ مغربی فکر وفلسفہ سے اتنی متاثر ہو چکی ہے کہ مادی دوڑ میں سب سے آگے آنا چاہتی ہے ۔ باوجود یہ جانتے ہوئے کہ ہماری اور ان کی مذہبی ، سماجی اور معاشرتی ضرورتیں اور اقدار اپنی الگ پہچان بھی رکھتی ہیں ۔ اس بے ترتیبی سے سب سے زیادہ ہمارا نوجوان طبقہ نہ ادھر کا رہا اور نہ ادھر کا اور یوں ہماری اَقدار و روایات کا مضبوط نظام تہہ وبالا ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور ہماری سوسائٹی مسائل سے دوچار تو ہے پر زمیداری لینے سے انکاری ہے ۔
اب ہم نئی نسل کی مشکلات اوران کے حل پر دھیان دیتے ہیں ۔
1۔ نوجوانوں کا سب اہم مسلہ ان کی فراغت ہے ۔۔ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ، تعلیم کے مواقع نہیں ہیں ، نوکریاں ملتی نہیں ہیں ۔ ان کی تعمی اور معاشی ناکامیاں انہیں مایوس اور نا امید کردیتی ہیں اور وہ میں کم حوصلے بے عمل ہوجاتے ہیں۔ خواہشات اور شیطانی وسوسوں میں پڑ جاتے ہیں ۔ یوں منفی اور تخریبی سوچوں کی وجہ سے معاشرتی زمیداریوں اور اسلام سے دورہو جاتے ہیں ۔ اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کوان کی صلاحیتوں کے مطابق ذہنی اور عملی طور پر مصروف رکھا جائے۔ اور ان کے لیئے تعلیم اور نوکریوں کو یقینی بنایا جائے ۔
2۔ ان کا دوسرا بڑا مسلہ جنریشن گیپ ہے یعنی ان میں اور بڑوں میں دوری ہے ۔ اس کی وجہ ماں باپ ، اساتذہ اور بزرگوں کی نوجوانوں پر بے جا تنقید ہے اور ان کا دوست نہ ہونا ہے ۔ ہمارے بڑے انہیں اپنے زمانے کی عینک سے پرکھتے ہیں ۔ بڑوں کے ایسے منفی رویے سے نوجوان ان سے دور ہو جاتے ہیں اور یوں نوجان یاتو خود ہی اچھے برے اپنے فیصلے کرنا شروع کر دیتے ہیں یا کسی غلط انسان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ اور ساری عمر کے لیئے بھٹک جاتے ہیں ۔ آسان سا حل یہ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی لئے کشادہ دلی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاہم میں بزرگوں کی نوجوانوں سے زیادہ زمیداری سمجھتی ہوں کہ وہ اپنے بیچ دوریوں کو ختم کرنے لیئے پہل اقدم بڑھائیں اور انہیں انہی کے زمانے کے تناظر میں دیکھیں اور ان کی اصلاح کریں ۔
3۔۔ میں کون ہوں ؟ ۔۔ میری پہچان میرا تعارف کیا
موجدہ سیاسی ۔ مسلکی اور لسانی فرقہ بندیوں اختلافات نے نوجوان نسل کو ایسے لوگوں کے ساتھ ان کا میل جول ہو گیا ہے جو ان کی عقل و فکر اور رویوں کو بدل رہا ہے ۔ حدیثپاک ہے ” آدمی اپنے ہم نشین سا طرزِ زندگی اپناتا ہے چنانچہ کسی کی ہم نشینی سے پہلے اس کے بارے میں غور کرلو کہ وہ کیسا ہے؟ ایک اورجگہ فرمایا:
“برے دوست کی مثال لوہار کی بھٹی کی طرح ہے یا تو وہ تیرے کپڑے جلا دی گی یا پھر تو اس کے دھوئیں کو چکھ لے گا۔”
اس مسئلے کا حل یہ ہےکہ نوجوانوں کو چاہیے ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو نیکی اور بھلائی کا سرچشمہ ہوں اور عقل و دانش کاپیکر ہوں تاکہ اُن سے کسبِ خیر اور اِصلاح انہیں اچھا انسان بنا دے ۔ بداَخلاق اور بدکردار انسان سے ہر حال میں دوری اختیارکی جائے ۔
4۔ منفی کتابوں کا مطالعہ اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال نے نوجوانوں کو غیر محفوظ کر دیا ہے ۔ وہ خود کو اپنی ذات میں مفکر اور مکمل سمجھنے لگے ہیں ۔ حالانکہ وہ سچ اور جھوٹکی پہچان تک سے محروم ہوتے ہیں ۔ یوں اپنی سادگی اور کم علمی کی وجہ سے ان گمرایوں میں نہ چاہتے ہوئے بھی پڑ جاتا ہے غلط لوگوں سے روابط ، ڈرگ مافیا ، بچوں کی خرید و فروخت اور ان سے غلط کام کروانے کا سلسلہ زیادہ تر اسی وجہ سے شروع ہوتا ہے ۔
اس مشکل کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کو دینی ماحول اور رول ماڈلز کی ضرورت ہے جو انہیں ایسی تخریبی کتابوں کے مطالعہ سے منع کر سکیں وہ شک و اِضطراب کی دنیا سے باہر آ جائے ۔
5۔ اِسلام کے بارے میں بدگمانیاں دورِ جدید میں مغربی فلسفہ و فکر کے تسلط کی وجہ سے نوجوان طبقہ فکری طورپر متاثر ہوا ہے۔ چنانچہ مغربی فلسفے کے مطابق اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی آزادی سلب کرکے اسےفکری و عملی لحاظ سے قید کرکے رکھ دیتا ہے، ترقی کے دروازے مسدود کردیتا ہے، صلاحیتوں پر بندشیں عائد کردیتا ہے اور انسان کو دقیانوس بنا دیتا ہے۔ یہی وہ اعتراض و خدشات ہیں جو دورِ جدید کے نوجوانوں کے قلب و ذہن پر طاری جس کی وجہ سے وہ اسلام سے دور ہے اور لاقانونیت کا شکار ہے ۔ ایسے نوجوانوں کو سمجھانے لیئے علمائے دین پر بھاری زمیداری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے حقائق سے پردہ کشائی کریں اور آج کے نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر چلیں ۔ ان کی باتیں تحمل اور برباری سے سنیں اور ان کے ہر سوال کا جواب دیں تاکہ ان شکوک اور شبہات دور ہو سکیں ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم












