ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز وائز’ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ‘سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ سے جو لوگ توقعات لگائے بیٹھے تھے ایسا کچھ نہیں ہوا، حکومت پنجاب اگر موجودہ صورتحال کو مشکل وقت سمجھتی ہے تو پھر یہ مشکل ساڑھے چار سال سے درپیش ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھرنوں اور احتجاج جیسی مشکلات کے باوجود پنجاب حکومت نے کافی حد تک دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا اور جلد مکمل خاتمہ کر دیں گے۔

سیاسی جماعتوں کے اتحاد پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں کے متحد ہونے کی وجہ صرف نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کوئی بھی سیاسی جماعت (ن) لیگ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ:حکومت کو قصور وارنہیں ٹھہرایاگیا،رانا ثناء اللہ

ان کا کہنا تھا کہ ’فیض آباد دھرنے کے معاہدے کو اگر کوئی گھٹنے ٹیکنا سمجھتا ہے تو اس میں حکومت کے ساتھ ریاست بھی شامل ہے، ریاست کسی چیز کو درست سمجھتی ہے تو حکومت کو بھی درست سمجھنا چاہیے کیونکہ حکومت ریاست کا ہی حصہ ہے، لیکن حکومت نے آج تک کسی معاہدے میں گھٹنے نہیں ٹیکے اور نہ آئندہ ٹیکے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مذہب، ایمان اور عقیدے کے معاملے کو ہمیں دنیاوی سیاست میں نہیں لانا چاہیے کیونکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے، اگر اس چیز کو پھیلایا گیا تو یہ معاشرے میں انتہائی تباہ کن اثرات لے کر آئے گی۔‘

واضح رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت کے دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔

گزشتہ برس 13 نومبر کو پنجاب حکومت کی ہدایت پر 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ) تشکیل دی گئی تھی،جس کے ممبران میں کوئٹہ پولیس چیف عبدالرزاق چیمہ، آئی ایس آئی کے کرنل احمد بلال، آئی بی کے ڈائریکٹر محمد علی، ایس ایس پی رانا شہزاد اکبر اور ڈی ایس پی سی آئی اے خالد ابوبکر شامل ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس وقت واقعہ پیش آیا ڈی آئی جی عبدالجبار موقع پر موجود نہیں تھے۔ واقعے کے دوران کانسٹیبل کی ہلاکت کی اطلاع ملی تو اُس وقت کے ایس پی سیکیورٹی علی سلمان نے اپنے ماتحتوں کو فائرنگ کاحکم دیا جس سے پی اے ٹی کے کچھ کارکن ہلاک ہوئے۔

سانحے میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے سابق ایس پی سیکیورٹی علی سلمان بیرون ملک پرواز کرچکے ہیں جبکہ ایک انسپکٹر عامر سلیم سمیت پانچ پولیس اہلکار جیل میں قید ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے تمام ممبران نے واقعے کے مقدمے میں نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب اور سابق وزیر قانون کے خلاف موجود الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے گناہ قرار دیا ۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کلین چٹ دیئے جانے پر پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس بات کی تردید کی کہ دھرنے کی کال عدلیہ پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی کے طور پر دی گئی، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ‘ایک درخواست اور یاد دہانی’ ہے کہ ہماری پٹیشن گذشتہ 30 ماہ سے عدالت میں زیر التواء ہے۔

پی اے ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے بینچ کا قیام نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ایک آزاد بینچ اس کیس کی سنوائی کرے۔

انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ سے نجفی کمیشن رپورٹ منظر عام پر لانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی تحریک اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کا بنیادی حق ہے کہ وہ اس رپورٹ کے مندرجات سے آگاہ ہوں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مذکورہ رپورٹ منظر عام پر نہ لانے کے لیے کسی دباؤ کا شکار ہیں تو پھر عوامی تحریک، انصاف کے حصول کے لیے کسی اور پلیٹ فارم کا دروازہ کھٹکھائے گی۔

انہوں نے درخواست کی کہ عید الاضحٰی کے فوری بعد اس کیس کے لیے بینچ تشکیل دے دیا جائے۔

طاہر القادری نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو سڑکوں پر آنے اور 16 اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کو روک نہیں پائے گی۔

گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے سانحے کی تحقیقات کرنے والے جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے فیصلہ سنایا۔

16 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء اور زخمیوں کا حق ہے کہ انھیں اصل ذمہ داروں کا ہتہ ہونا چاہیے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ عوامی دستاویز ہے، جوڈیشل انکوائری عوام کے مفاد میں کی جاتی ہے اور اسے عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی گذشتہ سماعت پر اپنے دلائل میں کہا تھا کہ یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، لہذا اس کو منظرعام پر آنا چاہیے، اس رپورٹ کا تعلق براہ راست عوام سے ہے اور اس کے منظرعام پر آنے سے آئندہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY