جرمنی میں مقیم ڈاکٹر نورین اکرم راٹھور، بین الاقوامی وکیل، سٹیزن سائنٹسٹ ، شاعرہ اور ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ ہیں اور علمی ادبی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
عالمی اخبار ڈاکٹر راٹھور کو اپنے لکھاریوں کی فہرست میں خوش آمدید کہتا ہے اور اس امر کا یقین ہے کہ انکی شمولیت اور قلمی تعاون سے عالمی اخبار کے قارئین مستفید ہونگے۔
صفدر ھمدانی،مدیر اعلیٰ۔ عالمی اخبار
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
Published on: Jun 11, 2024
نہ سمجھائے کوئی
منبر پر بیٹھ کر مجھ کو
نہ سمجھائے کوئی
نیچے اترے زمیں پر
آئے تو بتائے کوئی
اونچی آوازوں میں
الفاظ بھلے لگتے ہیں
ہلکی آواز میں سرگوشی سے
اتر جائے کوئی
راز محتاج نہیں
بکھرے ہوئےلہجوں کے
یہ عطا ہوتے ہیں،
خاموش تو ہو جائے کوئی
تیرے دلائل مجھے
قائل نہیں کر سکتے ابھی
تجھ کو اتر جانے کا
فن بھی تو پہلے آئے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Published on: 7 Apr 2024
حرف”ع” کی اہمیت
تعلم سے تعلیم اور تعلیم سے علم جب روح کو عطا ہوتا ہے تو پھر اس کے اندر تک اتر جاتا ہے اس کا اندر شور کرنا بند کر دیتا ہے کیونکہ وہ عمل کے راستے پر چل پرتا ہے اس کے پاس شکوہ و شکایات کا موسم رخصت ہو جاتا ہے۔
جب انسان کا دل عبادت کی طرف رخ کر لے تو وہ مست ہو جاتا ہے ایک موج میں رہتا ہے اس کو دنیا کی رنگینیوں سے اس کے معاملات سے کوئی سروکار نہیں رہتا اور جب وہ عبودیت سے سرشار ہونا شروع کرتا ہے تو وہ لوگوں سےالجھنا بند کر دیتا ہے۔ خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اس کا اندر بھرنے لگتا ہے وہ بے نیازی کی راہ پر چل پڑتا ہے اسکا خالی پن جو شور کرتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے ۔
شور اور شعور میں صرف ایک حرف کا ہی فرق ہے۔وہ ہے “ع” اور جس کے پاس یہ “ع” آ جائے وہ”ع” علم کی ہو یا عمل کی, عبادت کی ہو یا عبودیت کی، عقیدت کی ہو یا عقل کی اسے شعور کی منزل حاصل ہو ہی جاتی ہے۔
شعور کی منزل کی شروعات ہی خاموشی سے ہوتی ہے کیونکہ پھر اسکا عمل بولتا ہے اسکی عقل فیصلہ کرتی ہے اسکی عبادت اسکو نکھرتی ہے اسکو علم اسکو راستہ دکھاتا ہے اسکی عقیدت اسکو مضبوط بناتی ہے اور آپکی عبودیت اس کو جھکنا اور ٹھہرے رہنے کا درس دیتی ہے۔ یہ سب “ع” کا کمال ہے














Dr. Noreen Akram Rathore is the best person with unique insights. I really appreciate her work in this article. We are very eager to read more about her experiences in her articles.