پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو شدید مالی بحران کا سامنا

0
986

اسلام آباد (مہتاب حیدر) دی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے جیسا کہ اس نے وزارت خزانہ کو ایس او ایس (سیو آور سولز) یعنی مدد طلب کرنے کا پیغام بھیجا ہے تاکہ اس کی بندش کو روکنے کیلئے 4.42 ارب روپے کی اضافی فنڈنگ ​​فراہم کی جائے۔ حتیٰ کہ اکاؤنٹینٹ جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے لیے ملازمین سے متعلقہ اخراجات (ای آر ای) کے لیے کم بجٹ کے وسائل مختص کرنے کی وجہ سے حکومت کو وارننگ جاری کی ہے لیکن اس سے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی کیونکہ حکومت کی جانب سے صورتحال کو سدھارنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ریڈیو پاکستان کے نام سے جانا جانے والا پی بی سی مکمل مالیاتی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ان کے پاس ملازمین سے متعلقہ اخراجات (ای آر ای) بالخصوص پنشن، کمیوٹیشن اور دیگر مراعات کی ادائیگی کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں۔ تنخواہوں، پنشن اور دیگر مراعات کی ادائیگی کے لیے کوئی رقم نہیں ہوگی اگر حکومت دیوالیہ ہونے کی جانب بڑھنے والے ایک اور سرکاری ادارے کو بچانے کے لیے آگے نہیں آتی۔ ریڈیو پاکستان کو چلانے کے لیے دو ماہ کی مدت میں کوئی رقم نہیں بچے گی تو اس کے بند ہونے کا امکان افق پر نظر آنے لگے گا۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پی بی سی کو مکمل مالیاتی تباہی سے بچانے کا حل فراہم کر سکتی ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے سوال اٹھایا کہ ایسے اہم فیصلے کون کرے گا۔ ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر آج سے درست حکمت عملی نہ بنائی گئی اور عمل درآمد نہ کیا گیا تو ریڈیو پاکستان بند ہونے کی جانب گامزن ہو جائے گا۔ سرکاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے لئے 7.257 ارب روپے کے تخمینی اخراجات کے مقابلے میں 4.628 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی۔ اس طرح رواں مالی سال میں 2.629 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ 1.793 ارب روپے کا خسارہ ہے اس لیے جمع شدہ مالیاتی خسارہ رواں مالی سال کے لئے 4.422 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ حکومت نے تنخواہوں اور الاؤنسز کے لئے 2.243 ارب روپے کی امداد فراہم کی ہے جبکہ رواں مالی سال کے لئے 2.89 ارب روپے کے کل مطلوبہ اخراجات ہیں۔ اس طرح 647.566 ملین روپے کا شارٹ فال ہے۔ حکومت نے دیگر الاؤنسز اور پنشن کی ادائیگی کے لئے 1.727 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ اصل ضرورت 3.287 ارب روپے ہے۔ اس طرح خالص شارٹ فال 1.559 ارب روپے رہا۔ حکومت نے آپریٹنگ اخراجات کیلئے 657.288 ملین روپے فراہم کیے جبکہ 1.079 ارب روپے کے کل مطلوبہ اخراجات ہیں۔ اس طرح خالص شارٹ فال 421.855ملین روپے رہا۔ پچھلے سال سمیت 30-6-2022تک ڈھیر شدہ واجبات 1.793 ارب روپے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

09 دسمبر ، 2022

SHARE

LEAVE A REPLY