*جاگتی ہے آواز*
ماضی سے موجودہ زمانےتک خبر اور خبر دینے والے یا خبر پڑھنے والے بالفاظ دیگر خبر سنانے والے کی بہت اہمیت رہی ہے ۔ خبر سنانے والا عوام کو گزرے ہوئے واقعات اور آنے والے خدشات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔۔
اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو ایک دور وہ بھی تھا کہ جب درباری احکامات ، حکومتی اقدامات ، متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ اور ان سے بچاو ، ملکوں کے ایک دوسرے پر حملوں ، موسمی فصلوں کی بہتری یا قحط کے خوف کی خبر نقارے کی چوٹ پر بلند آواز سے مجمع میں سنائی جاتی تھی کہ عوام آنے والوں خطروں ، لاگو کئے جانے والے لگان /ٹیکسوں اور گزرے ہوئے حالات سے آگاہ ہوجائیں۔
خبروں کے ذرائع وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ کی صورت اختیار کر گئے۔ خبر دینے یا خبر پڑھنے والے
نیوز اینکرز کہلانے لگے
غرض کہ یہ افراد علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی صحافتی کہانیوں اور واقعات کو دستاویزی شکل دے کر عالمی رد عمل سے عوام کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔
۔
جبکہ برقی ذرائع ابلاغ ہمہ وقت اپنی نشریات میں مختلف صحافی نمائندوں کے زریعے عوام کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھتے ہیں ۔
ان صحافی خواتین و حضرات کو روزانہ دیکھتے اور سنتے رہنے کے سبب عوام بھی ان کے ناموں ، چہروں اور لہجے سے مانوس ہوجاتے ہیں۔
اور یہاں تک کہ ان کی آوازیں آپ دنیا کے کسی بھی خطے میں بیٹھ کر سنیں اپنے وطن یا اپنے گھر سے سننے والے کو متصل رہنے کا احساس دلاتی ہیں ۔۔
ماضی میں یہ نیوز اینکرز یا خبر سنانے والے خواتین و حضرات انتہائی شائستہ اور شستہ لہجے میں سخت ترین اور جذباتی خبروں کو بھی تحمل سے پڑھ کر سناتے تھے کہ الفاظ واضح اور پیغام یا خبر مبہم نہ رہ جائے اردو ، انگریزی یا کوئی بھی علاقائی زبان یا کبھی کبھار عربی میں بھی خبریں سننے کا اتفاق ہوا تو خبریں پڑھنے والوں کے شائستہ انداز نے متاثر کیا ۔
تعلیمی نقطعہ نظر سے بھی اردو یا انگریزی سیکھنے کے لئے بچپن سے ہی یہی رہنمائی ملتی رہی کہ ” اخبار پڑھو یا ٹی وی اور ریڈیو کی خبریں سنو “
مختلف الفاظ کے تلفظ بھی ان افراد کی زبانی سن کر اصلاح کئے جاتے تھے۔ یاد رہے کہ اس دور میں صرف پاکستان ٹی وی اور پاکستان ریڈیو برقی ابلاغ کے دو ہی نمائندے تھے جن پر خبریں براہ راست نشر ہوتی تھیں ۔
خبر نامے کی ایک مخصوص موسیقی اس کی برسہا برس سے پہچان بنی ہوئی تھی ۔۔خبریں پیش کرنے والے خواتین و حضرات خاصے تعلیم یافتہ افراد ہوتے تھے جن کی باقاعدہ تربیت ادارہ خود بھی کرتا تھا جب ہی وہ براہ راست 30 منٹ یا اس سے زاید عالمی ، قومی اور علاقائی خبروں کو بہت اہتمام سے اور مصدقہ ذرائع کے مطابق نشر کرتے تھے ۔۔
اس کے برعکس افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں اس شعبے سے مایوسی بڑھتی جارہی ہے ۔ بریکنگ نیوز کے نام پر چیختے چلاتے نیوز اینکرز بیشمار نیوز چینلز اور خبر خوانوں یا تجزیہ کاروں کے بلند بانگ سخت لہجے اکثر سماعتوں پر گراں گزرتے ہیں ۔۔
بہرحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر دور اپنے زمانے کے مطابق رویوں کا مظہر ہوتا ہے ۔۔
گذشتہ ہفتے ایک دلچسپ تقریب میں شرکت کا موقع حاصل ہوا۔ جو ایک کتاب کی تعارفی تقریب تھی کتاب “میرا زمانہ میری کہانی” محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ کی خودنوشت ہے جس میں ان کے بچپن ، خاندانی اقدار ، والدین سے ان کی عقیدت اور ان کے والدین کی اہنے بچوں سے محبت ، شفقت اور تربیت کے مراحل و تذکرے تھے تو ساتھ ہی ساتھ 70 کی دہائی سے پاکستان ٹیلیویژن سے آغاز ہونے والے ان کے اس شاندار ماضی کی کہانی ہے کہ جب انہوں نے ملکِ پاکستان کے مختلف سیاسی ادوار میں خبر پڑھیں اور کسی قدر بھی جذباتی لگاؤ ہونے کے باوجود اپنے فرائض ِ منصبی کو کس عمدہ سبھاو سے ادا کیا ۔
جمعہ 10 مارچ 2023 کی شام 3 بجے آغاز ہونے والی اس تقریب کے مہمان شرکاء گفتگو تھے جناب اسلم ملک ، فرخ سہیل گوئندی، فرخ بشیر صاحب ، محمد صفدر اور محترمہ طلعت نایاب زیدی صاحبہ تھیں ۔
ہم سب کے جانے پہچانے دوست جو یو ایم ٹی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں جناب احمد سہیل صاحب نے نظامت کو بھرپور انداز سے نبھایا ۔
سامعین کرام نے بھی پاکستانی تاریخ کے مختلف واقعات کو صاحبِ کتاب کی زبانی سننے کا خوب ہی لطف لیا۔
دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس تقریب میں موجود صحافت کے شعبے سےتعلق رکھنے والے معروف افراد قریبی دوستوں، عزیزوں کے علاوہ مہمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
نشست کے آخری حصے میں سامعین نے بیشمار سوالات کئے اور کئی افراد نے اظہارِ عقیدت و محبت کے کلمات ادا کئے ۔۔
کتاب کے آغاز میں بھی کچھ دوستو کی خوبصورت آرا نظروں سے گزریں ۔
جناب علی جعفر زیدی کہتے ہیں
” جب ماہ پارہ نے نشریاتی اداروں کے ساتھ وابستگی کا سفر شروع کیا تو پاکستان معاشرتی طور پر قدیم روایات سے نکل کر جدید راستوں کو اپنانے کے ابتدائی و ارتقائی عمل کی جد وجہد میں تھا اپنے اردگرد کے ماحول سے نکل کر انہوں نے جس جرات کا مظاہرہ کیا اس نے خواتین۔ کو ہمت دی اور ایک ایسا روشن آئینہ بن کر حوصلہ دیا جس سے ابھرتے ہوئے عکس ان کے اپنے بکھرے ہوئے عکس بنتے چلے گئے ۔
بلاشبہ ماہ پارہ وہ نیوز اینکر ہیں اور ان کے ہم عصر بھی کہ جن کے لہجے تلفظ ، لفظ شناسی اور رواں ادائیگی میں ایک روح تھی ، معنویت تھی جس کے ساتھ دیکھنے اور سننے والے اپنے آپ کو مربوط محسوس کرتے تھے اور یہی ماہ پارہ کی فنی صلاحیتوں کا مرکز تھا اور انہیں اب بھی معلوم ہے کہ وہ اپنے دیکھنے اور سننے والوں کو کس طرح علم و ادب کے ساتھ باندھ کر رکھنا ہوتا ہے “
کئی سو صفحات کی ایسی ضخیم کتاب لکھنا جو یادداشت پر مبنی ہو آسان نہیں مہ پارہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ ۔
“فصیل وقت کا در کھولنے کی دیر تھی کہ بیتے موسم سامنے آن کھڑے ہوئے اور پھر تو یقین کیجیے یادوں کا اتنا خزانہ ہاتھ لگا کہ اسے کوزے میں بند کرنا مشکل ہو گیا۔ لگتا ہے سارے گزرے ہوئے منظر دل کے کسی نہاں خانے میں دبکے پڑے تھے۔
وہ علامہ اقبال کا ایک بولتا ہوا شعر ہے نا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو ۔۔
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش تو
تصورات میں جھانکا تو لمحے زندہ ہوتے چلے گئے یہ کتاب ایسے ہی زندہ لمحوں کا نہ صرف عکس بلکہ ایک تاریخ ہے میری کوشش ہو گی کہ اردو میں اشاعت کے بعد یہ انگریزی زبان میں بھی جلد جلد دستیاب ہو۔
زندگی کی ریل گاڑی میں بیٹھ کر ابتدائی سفر سے لے کر اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے طویل منظر نامے کو سمیٹنے کی کوشش کی “
مناسب الفاظ اور اختصار کے ساتھ ان تمام حالات کو عوام الناس تک پہنچانے کی یہ کوشش قابل تحسین ہے ۔۔
یہ کتاب پاکستانی تاریخ کے حوالے سے لکھی جانے والی دستاویزات میں ایک اہم اضافہ ہے ۔۔جس میں خبروں کا من و عن پڑھا جانا ذاتی ردعمل دل میں موجود ہونے کے باوجود لہجے و تاثرات کو اس لمحے اظہار نہ کرنا یہ عجب ہی کیفیات کا بیان ہے ۔ جس سے شاید حساس لوگوں کا بڑا طبقہ واقف ہوگا ۔ اس وقت کے واحد قومی نشریاتی ادارے کے بعد ان کی صحافت کا یہ سلسلہ بین الاقوامی خبروں اور صحافت تک جا پہنچا ۔۔
مذکورہ تقریب میں بڑی تعداد میں موجودہ اور قومی صحافتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی بیشتر شرکا پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نظر آئے اس تقریب کا انعقاد ڈیموکریٹک
تقریب میں موجود مقررین نے بھی سامعین سے اپنی یادوں کا ذکر کیا اور کتاب کے متعلق رائے کا اظہار کیا
تقریب میں ایک سوال کے جواب میں محترمہ طلعت نایاب زیدی جو ماہ پارہ صفدر صاحبہ کی سب سے بڑی بہن ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہر طرح کے حالات آئے اور گئے مگر کبھی بھی ماہ پارہ سے یہ نہیں سنا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں انہوں نے کبھی ہمت یا حوصلے کی کمی کا اظہار کیا ہو۔
گوئندی صاحب کا کہنا تھا اس تقریب کو منعقد کرنے کا سبب بلکہ اسباب مہ پارہ صاحبہ سے دیرینہ خاندانی قربت ، ان کے آبائی شہر سرگودھا سے ان کا تعلق اور پاکستان ٹیلی ویژن میں گزارہ ان کا پیشہ وارانہ ساتھ رہا ہے ۔
محمد صفدر مہ پارہ صاحبہ کے صاحبزادے ہیں جو اپنی والدہ کی اس کتاب کی تصنیف کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم سب نے انہیں اس کتاب کو لکھنے پر اصرار کیا اور ان کو اس تخلیق کے دوران بہت منظم دیکھا وہ اکثر رات گئے تک لکھتی رہتی تھیں۔
اکثر واقعات لکھنے سے پیشتر مشورہ کرتی تھیں ۔ وہ عام گفتگو کے لئے بھی گھر میں اردو بولنے کو ترجیح دیتی ہیں اور ہمیشہ اچھے الفاظ کو انتخاب کرتی ہیں دونوں والدین کی اردو سے محبت کے سبب لندن میں تعلیم و تربیت ہونے کے باوجود بھی اس خوبصورت قومی زبان جو انہیں والدین سے ورثے میں ملی ہے پر عمدہ دسترس رکھتے ہیں۔
ایک مہمان مقرر کا کہنا تھا کہ اہم لوگوں کا کتاب لکھنا اور اسے شائع کرنا اور صاحبان فہم قارئین تک پہچانا یقیناً ایک ذمہ داری یا فرض کا ادا کرنا ہے ۔۔
جس دور میں مہ پارہ صاحبہ پاکستانی خبروں سے منسلک تھیں وہ دور اردو زبان کےعروج کا دور تھا جب سننے والے بغور مکالمے اور تجزیے اور گفتگو سنا کرتے تھے ۔۔
پاکستان ٹیلیویژن کے بعد انہوں نے بی بی سی نیوز اردو کے ساتھ طویل عرصے تک فرائض کی انجام دہی جاری رکھی یعنی ملکی و بین الاقوامی صحافت سے منسلک رہیں۔
اسلم ملک صاحب کا کہنا تھا کہ وہ مہ پارہ صاحبہ کے پنجاب یونیورسٹی کے ساتھیوں میں سے ہیں جو براہ راست تو متعارف نہیں تھے مگر ایسا لگتا ہے کہ ان کی واقفیت ہمیشہ سے ہے کتاب کے دو اہم کرداروں جو مہ پارہ صاحبہ کے والدین ہیں انہوں نے ان کو بہت متاثر کیا جن کی تربیت کے سبب ان کی بیٹیاں مختلف مگر نمایاں عہدوں پر فائز رہیں اور اپنے پیشوں میں کامیابی سے آگے بڑھتی رہیں۔
تقریب کے آخر میں صفدر ہمدانی صاحب کا آڈیو پیغام سنایا گیا جس میں ان کی رفیق زندگی کے شب و روز اور ان کا ایک دوسرے کو ان کی پیش ورانہ زندگی میں تعاون اور حوصلہ دینے کا خوبصورت انداز سے تذکرہ کیا گیا اور مبارکباد کو منفرد انداز میں ادا کیا گیا تھا
تقریب کا اختتام مہ پارہ صاحبہ نے کئی اقتباسات کو پڑھ کر پھر اپنی بہت نفیس غزل کو خوش الحانی سے پڑھ کر کیا جس کو سن کر متعدد سامعین نے سوال کیا کہ وہ گلوکاری و اداکاری کی جانب کیوں راغب نہ ہوئیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ طالبعلمی کے زمانے میں وہ اپنے تعلیمی اداروں کے مختلف غیر نصابی سرگرمیوں میں بہت فعال رہی ہیں ۔ اور اداروں کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔
یہ بات یہاں حقیقت نظر آتی ہے کہ جب کوئی عورت کسی موضوع پر قلم اٹھاتی ہے تو وہ یقینا ً اس اعتماد سے اظہار خیال کرتی ہے کہ وہ اس ماحول سے ان حالات سے خود گزر کر تحریری صورت میں اس کا اظہار کر رہی ہے جبھی وہ اپنے پڑھنے والوں میں احساسات کو بیدار کر پاتی ہے۔ ایسی تمام خواتین کے لئے جو اپنے شعبوں میں نمایاں حثیت حاصل کر پائیں ہیں اظہار عقیدت پیش کرنا ہر معاشرے میں ایک لازمی امر ہے ۔۔ یہ قوموں کی ترقی و کامیابی کا اہم سنگ میل ہے ۔۔
اس کارِ آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ
محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم ..
رومارضوی













