مظہر شہزاد خان رالپنڈی پاکستان کے ایک معروف شاعر افسانہ نگار اداکار براڈکاسٹر مصور اور پی ٹی وی کے کارٹونسٹ ہیں.وہ نظم غزل اور گیت لکھتے ہیں.ملکی سطح پر بے شمار اعزازات سے نوازے گئے ہیں.انہوں نے دوسو سے زائد کتب کے ٹائٹل بنائے ہیں.حلقہ ارباب ذوق اور نیشنل پریس کلب کے ممبر ہیں.ان کی مصوری کی کئی نمائشیں ہوچکی ہیں.ادبی اور ثقافتی تنظیم کسب کمال کے چئیرمین ہیں.
ادارہ عالمی اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیا من غیر قابل پیش بینی ھستم؟
بس اک سوال اور پھر لمبا سفر
کیا عجب کہ
شاخچہء درد پہ پھوٹے کوئی صد رنگ سی کونپل کہیں
کیا خبر کس پھول سے نکلے کوئی بوئے گماں
یک بیک زیر زمیں ماہ تاب کی دھیمی چمک سے کھل اٹھے باغ۔ نہاں
کیا پتہ صحن۔چمن سے پھوٹ کر اک چشمہء حیرت کسی جوئے رواں سے جا ملے
لمحہ لمحہ کھوجتے وہم و گماں کے درمیاں اک راستہ
اپنے یقیں سےخودبخود بننے لگے
کیا خبر کس وقت دریا جھیل سے جا کر ملے
کیا پتہ موج صبا بے سمت ہی چلنے لگے
پیش بینی کا یقین زیر زمیں تخم گماں
اے مہرباں
: زمیں زاد
۔۔۔۔
زمیں زاد
کیا تھا وہ پرسوز بھیگا ہوا سا ترنم
جو پاتال تک جاں کو کھینچے ہوئے تھا
عجب سا فسوں تھا
حسن کوزہ گر کی کہانی سناتے
زمیں زاد خود تو کسی چاک پر تھا
لرزتا ہوا
اندروں تک مسمار ہوتی ہوئی
آہٹوں میں گھرا تھا
مگر اک تیقن سے لبریز پرسوز
بھیگا ہوا وہ ترنم
مری چشم نم سے گرے جا رہا تھا
زمیں زاد
کوسوں پہ رکھا ہوا فاصلہ
یوں سمٹ کے کھڑا تھا
کہ جیسے سماعت میں سرگوشیاں گونجتی ہوں
حسن کوزہ گر کی کہانی سناتے
زماں و مکاں سے تو آزاد ہو کر
نجانے کہاں تھا
زمیں زاد تو نے کہا تھا
ہنسی ایک وقفہ ہے گریہ و درد طوالت میں جیسے
معبد میں جلتے دئیوں کی چراغوں کی مدقوق سی روشنی دم بخود ہو
عجب ایک حیرت کدہ ہے یہ دنیا
کہیں پہ تمازت
کہیں شبنمی سی خنک آہٹوں کا ترنم چھپا ہے
کہیں سسکیوں سے لپٹتی ہوئی فکرومستی پڑی ہے
زمیں زاد تو نے کہا تھا
یہ دنیا عجب گوں مگوں میں پھنسی ہے
گماں اور یقیں کے
ادھر بھی
ادھر بھی جو بے چہرگی کا سمندر کھلا ہے
کہیں پہ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی بستیاں ہیں
جہاں سارے اپنی ہی گلیوں سے سہمے ہوئے ہیں
انہیں تو چراغوں کی بعثت سے پہلے ہی خوابوں کی لذت سے بھٹکا دیا تھا
پراسرار رمزوں میں الجھا دیا تھا
زمیں زاد
ٹوٹے گا کیا یہ فسوں زندگی کا
یہ شام وسحر جو تعاقب میں پھرتے ہیں کیا چاہتے ہیں
بھٹکتا ہوا شام کا دھندلکا کیوں اداسی کی زردی کو اوڑھے ہوئے ہے
زمیں زاد
تیرے ترنم کی پرچھائیں شامل ہیں اس میں
یہ گہری سی تنہائی بھی ایک نعمت میں لتھڑی ہوئی جا بجا ہے، یہ کیا ہے؟
عجب داستاں ہے یا حرف حکایت
وہ جلتا انگارہ
جو رکھا گیا تھا کسی وصل شب میں
جہاں سسکیاں بھی تمھارے ترنم سے الجھی ہوئی تھیں
وہ سوز تکلم کہاں بھولتا ہے
وہ رستوں کی اڑتی ہوئی دھول کیسے مجسم ہوئی چاک پر
اپنے ہونے نہ ہونے کا ڈر ڈھونڈتی تھی
سفر ڈھونڈتی تھی
زمیں زاد
تو منکشف کیا ہوا
سارے رنگ کینوس کے بدلنے لگے
عکس سارے بصارت میں ڈھلنے لگے
وہ جوقرطاس پہ لفظ بکھرے ہوئے تھے
سنبھلنے لگے۔
ہوا یہی تھا
کہ دستیابی میں کچھ زیادہ
میں اس کی خاطر پڑا ہوا تھا
میں اپنی فطرت سے
اپنی نیت سے چلنے والا
کہاں سمجھتا چلن زمانے کے
آزمانے کے
وہ چند ہی گلیاں تھیں
موڑ مڑتے
پلٹ پلٹ کے وہیں تھے رکتے
مگر ہوا کیا؟
وہ در بھی بند تھا
وہ کھڑکیاں جو ہوا کے جانے کا راستہ تھیں
بند پڑی تھیں
چراغ سارے الٹ پڑے تھے
بکھر گئی تھی ہر ایک باتی
بچا کہاں تھا وہ تیل باقی
میں خشک آنکھوں کا ہاتھ تھامے
پلٹ گیا تھا
کہ دستیابی میں کچھ زیادہ
پڑا ہوا تھا
گڑا ہوا تھا
ہوا یہی تھا
مظہر شہزاد خان













