عورت کو اپنے جیسا انسان سمجھیے۔ ماہ پارہ صفدر

0
2482

‎‫بہت برسوں پہلے کی بات ہے ، میں ڈیرہ بگٹی بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کا انٹرویو کررہی تھی۔ عورتوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے اپنی روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہم تو عورتوں کی اتنی عزت کرتے ہیں کہ اگر لڑائی زوروں پر ہو اور گولیاں چل رہی ہوں، ایسے میں اگر مرد کے بجائے اسکی رشتے دار خواتین سامنے آجائے، تو ہم لڑائی بند کردیتے ہیں”۔ اس وقت تو میں نے اسے محض لفاظی ہی سمجھا، نواب صاحبان عورتوں کی ’ کس قسم کی’ عزت کرتے ہیں، اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں

‫ نواب صاحب کی یہ بات برسوں بعد مجھے سابق صدر جنرل پروہز مشرف کے پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو کے اس گفتگو پر یاد آئی کہ بلاول پہلے مرد تو بنیں تب اس کا جواب دونگاَ وہ تو عورتوں کی طرٖح بات کرتا ہے.

ہمارے معاشرے میں یہ گفتگو عام ہے جب کسی مرد کو اس کے کمزور ہونے کا طعنہ دینا ہو تو اس سے کہا جاتا ہے مرد بنو مرد کے بچے بنو،گویا عورت جو بچہ پیدا کرتی ہے اس کا بچہ ہونا بھی اسکی کمزوری کی علامت ہے۔

یہ ہی نہیں کہ عام لوگ اس لب و لہجے میں بات کرتے ہوں ‘ اب جنرل مشرف جیسے مردوں کو کیا کہا جائے، جو جنرل کے عہدے پر کام کر چکے ہوں اور ملک کے سربراہ بھی رہ چکے ہوں

یہ الگ بات ہے کہ جنرل مشرف نے ایک پارٹی کے رہنما کے بارے اس قدر غیر مہذب گفتگو کی جو انہیں زیب نہیں دیتی تھی، لیکن سردست یہ میرا موضوع نہیں ہے
میں یہاں صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر کسی مرد کو یہ کہنا ہو کہ کیا فضول گفتگو کر رہا ہے یا بہت ہی وقوفی کی بات کر رہا ہے یہ شخص، تو اسے کہا جاتا ہے ارے کیا عورتوں کی سی بات کر رہے ہو۔گویا عقل، ہمت، طاقت، اخلاقیات، اوربہادری وغیرہ ؟صرف مردوں کی خصوصیات ہیں؟

شائد ہمارے معاشرے میں مردوں کو یہ احساس بھی نہ ہو’ کہ عورتوں کے لئے اس قسم کی گفتگو اچانک نہیں بلکہ ا’ن رویوں کی آئنیہ دار ہے جن کے تحت ہمارے معاشرے میں عورت کو واقعی ایک کمتر مخلوق ،‬سمجھا جاتا ہے ۔

‎‫ جب قانون سازی کی جاتی ہے تو عورت کو آدھی گواہی بنا دیا جاتا ہے، کبھی وہ مرد کی پسلی سے نکالی ہوئی شے ہے، کہیں وہ مرد سے کمزور ہے، کہیں وہ پاوں کی جوتی ہے۔ اگر پروفیشنل بن بھی جاتی ہے، تو بھی طے ہے کہ اس کی قابلیت مرد کے مقا بلے میں کم ہوگی ۔

‎‫ ایک رپورٹ کے مطابق عورت اپنے ہی رشتے داروں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنتی ہے ۔ عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق عورتیں اور بچیاں اپنے باپ، بھائی، سسراور ان جیسے قریبی رشتے داروں کے ہاتھوں ریپ ہوتی ہیں ، اہلکار کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو اس قدر احساس کمتری کے احساس ساتھ پالا جاتا ہے کہ وہ اپنے مرد رشتے داروں کے سامنے اپنا دفاع بھی نہیں کر پاتیں۔‬
‫ ‬
‎‫اور یہ سب کچھ ایک ایسے معاشرے میں ہورہا ہے جس میں مرد یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہمارے مذہب نے عورت کو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ کچھ عرصے قبل کی بات ہے، فیسں بک پر ایک دوست نے اپنے سٹیٹس پر لکھا کہ
” ایک بیٹی کا اپنے والد سے سوال: 
ابو آج میری تیسری بیٹی پیدا ھوئی ہے اور میرے شوہر جو ویسے میرے ساتھ بہت اچھے ہیں لیکن وہ بہت افسردہ اور ناراض سے ہیں۔ 
اور مجھ سے بات نہیں کر رہے، بابا، میں بھی جب پیدا ہوئی تھی تو آپ کی تیسری بیٹی تھی تو کیا آپ بھی اسی طرح افسردہ اور ناراض تھے

کیا آپ نے بھی میری ماں سے بات کرنی چھوڑ دی تھی۔

ہمارے ہزاروں فیس بک دوست جو چند لمحوں میں تبصروں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں، مگر اس سٹیٹس پر ایک آدھ کے سوا کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا، شائد اس لیے کہ لوگوں کے پاس اس کا جواب ہے بھی کہاں۔

میرے ذہن میں ایک سوال شدت سے ابھرا کہ آخر بیٹیاں اپنے باپوں سے کب تک یہ سوال کرتی رہینگی۔ ‬

‎‫گو کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کچھ قانون سازی ہوئی۔ لیکن قوانین کے باوجود عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بدستور اضافہ ہی ہورہا ہے۔

‎‫کیونکہ عورت کی کمترسماجی حیثیت کے ذمے دار صرف قوانین ہی نہیں وہ سماجی رویے ہیں، جن کا ایک مظاہرہ جنرل مشرف کے نام نہاد مردانہ ریمارکس میں جھلک رھا ہے۔

‎‫۔جب معاشرے کے وہ افراد جو ذمے دارانہ عہدوں پر کام کر چکے ہوں ، وہ خود ہی ببانگ دہل اس قسم کے صنفی ریمارکس دیں، جس سے ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کی تذلیل ہو یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ کسی کو یہ اندازہ بھی نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ ملک کے کسی بھی طبقے نے ، کسی دانشور نے، کسی کالم نگار نے، یا بقول میڈیا کے اپنے ایک فعال میڈیا کی موجودگی میں سوائے ایک دو صحافیوں کے کوئی بھی اس قسم کے بیانات پر اس پہلو سے غور تک کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا کہ یہ ہتک آمیز رو یہ عورتوں میں احساس کمتری اور عدم اعتماد کا سبب بنتا ہے۔ یہ وہ بےحسی ہے جس پر صرف افسوس کافی نہیں، معاشرے میں یہ ہی کچھ ہوتا رہیگا جو اس وقت ہورہا ہے، عورت اسی طرح ایک کمتر مخلوق رہے گی، جب تک مرد اپنی گفتگو میں مردانگی جتاتے رہیں گے ۔

‎‫عورت کی حالت زار صرف اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے، جب سماجی رویے بد لیں اور سماجی رویوں میں اگر تبدیلی لانی ہے تواس کے لیے ایسی سوچ لازم ہے، جس میں عورت کی عزت ایک ماں بیٹی ‘ بیوی ، بہن یا کمزور سمجھ کر نہیں اپنے جیسا ایک انسان سمجھ کرکی جائے، اس تبدیلی کی بنیاد بنانے کے لیے تعلیمی اداروں کے نصاب کو تبدیل کیجئے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنفی کمتری اور برتری ثابت کرنے والے کہ ’مرد بنو مرد کے بچے بنو’ جیسے بہت سے الفاظ ، گھڑے گئے محاورے اور فقرے معاشرے کی لُغت سے نکالنے ہوں گے

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY