سابق وزیراعظم نواز شریف بلامقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہوگئے۔
لاہور میں مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریک ہوئیں۔
دیگر شرکا میں خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین، سردار ایاز صادق، حمزہ شہباز اور دیگر رہنما بھی شامل تھے۔
مسلم لیگ ن کے جنرل کونسل اجلاس نے نواز شریف کے انتخاب کی توثیق کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بلامقابلہ پارٹی صدر منتخب ہونے پر گلے لگا کر مبارکباد دی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی والد کو پارٹی صدر بننے پر مبارکباد دی۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کے مدِمقابل کسی نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کروائے تھے۔
پارٹی صدر کے عہدے کے لیے نواز شریف کے 8 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق کھیل داس کوہستانی نے نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی وصول کیے، چاروں صوبوں سے الگ الگ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے بھی نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تھے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سندھ سے ن لیگ کے صدر بشیر میمن نے نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جبکہ خیبر پختون خوا سے امیر مقام نے نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے سردار یعقوب نے نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔
رانا ثناء اللّٰہ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا جبکہ کمیشن کے 4 ارکان میں عشرت اشرف، اقبال ظفر، کھیل داس اور جمال شاہ کاکڑ بھی شامل تھے۔
آج دوپہر 12 بجے تک کاغذات جمع کروائے گئے اور 1 بجے تک ان کی جانچ پڑتال ہوئی۔
کاغذات واپس لینے کا وقت ڈھائی بجے تھا، پارٹی صدر کے الیکشن کےلیے 4 بجے جنرل کونسل کے اجلاس میں ووٹنگ ہونا تھی۔













