میں نے یہ سلسلہ سورہ فاتحہ سے شروع کیا تھا اور اسی پر ختم کر رہا ہوں کہ کسی امت کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دعا مانگنے کا طریقہ نہیں سکھایااس کی وجہ یہ تھی کہ حضورﷺ سے پہلے دنیا انبیا ئے کرامؑ سے کبھی خالی نہیں رہی قرآن کے مطابق کوئی قریہ ایسا نہیں رہا جس کی طرف اللہ نے اپنا نبیؑ یا رسولؑ نہیں بھیجا ہو قر آن شاہد ہے کہ ایک وقت میں کئی کئی نبی ؑ موجود رہے ان کی امت بھی بہت چھوٹی تھی اگر دعا کی ضرورت ہو تی تھی تو وہ اپنے اپنے نبیوں ؑ کے پاس چلے جاتے اور ان سے دعا کرا لیتے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضور ﷺ کو تمام عالم کے لیئے بھیجا گیا۔کیونکہ اللہ اپنا دین مکمل کر نا تھا چاہتا اس کے لیئے پیغامبر بھی کامل ترین ہونا چاہیئے تھا لہذا حضور ﷺ کامل ترین پیغمبر بھی تھےاور کامل ترین انسان بھی تھے ۔چونکہ آئندہ کسی کو نبی ؑ آنا نہیں تھا تو وہی کام ہر امتی کے سپرد کیا جو اسے بطور نائب ِ رسول ﷺ کرنا تھا اورہر مومن کو حکم دیاگیا کہ وہ علم حاصل کر ے اتنا کہ دوسروں تک پہنچا دے اور دین صرف علماء تک محدود نہیں رہے یہ ہر مومن کی ذمہ داری بنا دی اس کے ثبوت میں آپ کے سامنے میں سورہ والعصر پیش کرتا ہوں جو کہ وقت کی قسم سے شروع ہوتی ہے آگے اس کے مضمون یہ ہے کہ ہر ایک خسارے (نقصان) میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک کام کیئے اور اس کی اور صبر کی تلقین کی۔ دوسری ہدایتوں میں ، میں نے یہاں صبر پر زیادہ زور دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں اس کا مساوی کوئی لفظ واحد مساوی نہیں ہے جو اس کی جگہ لے سکے؟ البتہ ہندی اور انگریزی میں سمائی اورٹالرینس ہیں چونکہ اس میں تبلیغ کا حکم ہے ہر مومن کو لہذا ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ جو اس کو آتا ہے وہ دوسروں تک پہنچا دے۔ ورنہ خسارے میں رہنےوالوں میں شامل ہوجا ئیگا کیونکہ اپنی مذہبی ذمہ داری پوری کرنے میں کوتاہی برتے گا ۔تبلیغ ہی کے سلسلہ میں اسے دعا کرنا بھی پڑیگی اور سکھانا بھی ہوگی؟اس لیئے ایک ایسی سورت نازل فرمائی جو قر آن کے دروازے کاکام دے لہذا اس کا نام سورہ فاتحہ رکھا اس کے صفاتی نام اس کے علاوہ انیس اور بھی ہیں۔
چونکہ یہ ایک چھوٹا سا مضمون ہے اس میں ان سب کو بالتفصیل شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔لہذا اس کا پہلا ہی نام لیتا ہوں اگر کوئی طالب اس پر عبور حاصل کر لے تو اس پر پورا قرآن واضح ہوجا ئے گا۔ جبکہ آیات صرف سات ہیں۔ جن کا میں یہاں اردد ترجمہ پیش کر رہاہوں اس پر سب سے بڑی تفسیر مولانا ابو الکلام آزاد نے کی ہے جوکہ 200صفحات پر مشتمل ہے اس خاکسار نے بھی اس پر حضور سیر سے پہلے 80 صفحات لکھے ہیں جوکہ روشنی حرا کے نام سے ہے اور آن لا ئین ہے وہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اردو ترجمہ پیش ِ خدمت ہے۔ اللہ کے نام سے شروع جو کہ بڑا مہربان اور نہایت رحم فرما نے والا ہےO سب تعریفیں اللہ کے لیئے ہیں جو کہ تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے O نہایت مہربان اور رحم فر مانے والا ہے O روزِ جزا کا مالک ہے O(اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کر تے ہیں تجھی سے مدد مانگتے ہیں O ہمیں سیدھا راستہ دکھا ہ ان لوگوں کاراستہ پر چلاجن پر تو نے انعام فرما یا ان کا نہیں جن پر تیرا غضب نازل ہو۱ اور نہ (ہی) گمراہوں کا O اس میں زور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے رحیم اور رحمان ہونے پر دیا ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ زور اس سے ڈرنے پر جو اس سورت میں سب سے آخر میں ہے ۔ا س سورہ میں کوئی اس کی صفت بچی نہیں ہے جس کا احاطہ نہ ہوگیا ہو۔ جوپورے قر آن میں بیان ہوا اس میں موجود طریقہ وہی ہےکہ اول رحم اور آخر میں عذاب کاذکر ہے باقی پوری تفصیل پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نی مثالیں دیکر بھی سمجھایا ہے۔ یہ وہ سورت ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔کوئی صورت اس کی جگہ نہیں لے سکتی اور سوتوں کی جگہ یہ لے سکتی ہےجیسے فرض نمازوں آخری رکعتوں میں یہ اکیلی ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پوری امت کو یہ عطا کر کے دعا مانگنے کا طریقہ اورآداب بتا دیئے ہیں۔ حضور ﷺکی ایک حدیث ِپاک ہے جس میں انہوںﷺ ﷺ اللہ سے دعافرمائی ہے کہ جو دین کام کریں ان پر تورحمتوں بارش کر انہیں شاد اور آباد رکھ۔ جہاں تمام ضروریات آپ پوری کرتے ہیں وہا ں چند منٹ بحکم حضور ﷺ دس منٹ تبلیغ کو روزانہ دیدیں چاہیں اپنے بچوں پر ہی خرچ کریں تو دین اور دنیا دونوں آپ کی ہیں۔ اگر نہیں کریں گے تو اپنی نسل کوگمراہ کر نے کا باعث ہونگے جس پر روز قیامت جواب دیناہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار فرمایا ہے کہ جو کوئی کچھ کرتا ہے وہ اپنے لیئے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سب سے بے نیاز ہے۔













