شمالی اور جنوبی کوریا کے اعلی ترین حکام دو برس بعد پہلی ملاقات میں مشترکہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت شمالی کوریا فروری میں جنوبی کوریا میں ہونے والے موسمِ سرما کے اولمپکس مقابلوں میں اپنے کھلاڑی بھیجنے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت کے بیان کے مطابق دونوں ممالک فوجوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ’ہاٹ لائن‘ کو بحال کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں، تاہم جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ جوہری تخفیف کے معاملے میں شمالی کوریا کے وفد کا رویہ منفی تھا۔

دو دن کے مذاکرات کے بعد منگل کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تعلقات میں بہتری کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر رابطے جاری رکھنے کے علاوہ کچھ دیگر شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق کیا تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

شمالی کوریا نے جن معاملات پر اتفاق کیا ان میں اپنی قومی اولمپکس کمیٹی کے وفد کے دورے کے علاوہ کھلاڑیوں، کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے والی چیئر لیڈرز، جسمانی کرتب دکھانے والے کھلاڑیوں، تماشائیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی کوریا بھیجنے پر رضامندی شامل ہے۔ جنوبی کوریا نے ان مہمانوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ان مذاکرات میں جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے ایسے جارحانہ اقدامات سے پرہیز کا بھی کہا ہے جن سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور شمالی کوریا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جزیرہ نما کوریا پر پُرامن فضا قائم رکھنا ضروری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY