بول کے لب آزاد ہیں تیرے..آفتاب احمد‎

0
3258

بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
اظہار رائے کی آزادی کو ‘فریڈم آف اسپیچ اینڈ ایکسپریشن سے تعبیر کیا جاتاہے۔جس کا سادہ سامطلب بولنے کی آزادی ہے۔ عمل اور لکھنے کی آزادی کو بھی اظہار رائے کی آزادی میں شمار کیا جاتاہے۔ یعنی ہر انسان تقریر وتحریر اورعمل کرنے میں آزاد ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر کی شق نمبر 19 کے مطابق “ہرشخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے
اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے علم اور خیالات کی تلاش کرے۔ انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے۔”حیرت ہے اس شق میں کہیں اظہار رائے کی آزادی کی کوئی لمٹس بیان نہیں کی

آرٹیکل 19 – A ہر پاکستانی کے لئے اس حق کو یقینی بناتا ہے اور آئین کی اسی آرٹیکل کے تحت ذرائع ابلالغ کو بھی اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔آزاد میڈیا عوام کی طرزِ معاشرت، ثقافت اور تہذیب کی عکاسی کرتا ہے، میڈیا معاشرے کی نفسیات کا ماہر ہو تا ہے اور اپنی سماجی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتا ہے اور اہلِ صحافت اپنے اس فرض کو پورا کرنے کیلئے انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن صحافی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے تمام تر مشکلات کے باوجود سچ عوام کے سامنے لاتے ہیں۔

بد قسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی اکثریت معذور ہے۔ یہ معذوری جسمانی نہیں ذہنی اور سوچ کی ہے، ذہنی طور پر اندھے، بہرے، گونگے اور بونے لوگ، جن کی اپنی سوچ اتنی بیمار ہے کہ اس کا اظہار دوسروں کے سامنے کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن دوسروں کی بات سننا اور سمجھنا بھی نہیں چاہتے۔ پھر وہ صرف دوسروں کو نا پسند کرتے ہیں

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آرسی پی) کو ملک میں اظہار رائے کی آزادی کی سکڑتی ہوئی فضا پرشدید تشویش ہے۔ اختلاف رائے رکھنے،خیالات کے اظہار اور جاننے کا حق، کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ معلومات اورافکار کے آزادانہ بہاؤ کے بغیرشہریوں کے مابین دلائل پرمبنی گفتگو ممکن نہیں اور اس کے بغیر معاشرہ مزید تقسیم اورعدم رواداری کاشکارہوگا۔

حالیہ مہینوں میں، پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی اقدامات کئے گئے جن میں میڈیا پرحملے، ان کی بندش،ان کے خلاف سازباز، الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے استبدادی قانون 2016 کا نفاذ اورصحافیوں کو دھمکیاں شامل ہیں۔ حال ہی میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے فیض آباد آپریشن میں حکومتی ناکامی کو عوام کی آنکھوں سے اوجھل رکھنے کے لیے پاکستان بھرمیں نجی ٹی وی چینلوں کو 28 گھنٹے تک بند رکھاجوکہ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو خاموش کرانے کا غیر متناسب کام تھا۔

حکومت ملک کی حالیہ صورتحال سے چشم پوشی کا سلسلہ بند کرے اور اظہاررائے کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے والے ظالمانہ اقدامات کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ دوسری طرف، عوام کو معلومات دینے والے اور اظہاررائے کرنے والے عناصرکو خاص طورپرمرکزی ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگوں کو ذمہ داری اوراخلاق کا مظاہرکرنا ہوگا تاکہ غیرجانبداراوردرست نقطہ نظرسامنے آسکے۔ انہیں نہ تو خود کودستیاب فورمز کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے اورنہ ہی دھونس وتشدد کی کوششوں کے زیراثرآنا چاہیے”۔

مغرب میں جب سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت زیادہ ممکن ہوئی ہے۔ بیسویں صدی میں اس حوالے سے جو قانون سازی ہوئی اور مغرب کے جمہوری ممالک میں اس کے سبب لوگوں کو بنیادی حقوق اور آزادی کے نام پر بعض مقامات پر ایسی آزادیاں ملیں کہ کوئی اخلاقی’ مذہبی یا اس قسم کی اور کوئی قدغن ان کو روکنے کا نام نہیں لے سکتی۔

آزادئ اظہار انسانی حریت کے لیے پہلا اور آخری مورچہ ہے۔

آزادئ اظہار میں حقوق اور فرائض (فرد اور معاشرے دونوں کے) شامل ہیں لیکن ان کو بنیادی طور پر حقوق کے ذیل میں رکھ کر بحث کی گئی ہے۔ کسی بھی نفرت انگیز تقریر کے متاثرہ افراد کی کسی حد تک تلافی کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ نفرت والی تقریر قانونی طور پر قابلِ مواخذہ سطح سے کم تر درجے پر ہو اور جدید معاشرہ آزادئ اظہار کے حوالے سے اس سماجی ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتا ہے؟

آزادئ اظہار کے ضمن میں سب سے مؤثر قانونی مآخذ بین الاقوامی انسانی حقوق کا اعلان نامہ ہے جس کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ آرٹیکل ۔۱۹ کی رُو سے

۱۔ ہر شخص کو آراء رکھنے کا اختیار ہو گا اور اس سلسلے میں کوئی مداخلت نہ ہو گی۔

۲۔ ہر شخض کو آزادئ اظہار حاصل ہو گی۔ اس حق میں ہر طرح کے نظریات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور معلومات دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہو گی۔ سرحدیں اس حق کی راہ میں حائل نہ ہوں گی۔ یہ معلومات تحریری شکل میں، زبانی شکل میں یا کسی آرٹ کی شکل یا کسی اور مطلوبہ ذریعے حاصل کی جا سکیں گی۔

۳۔ شق نمبر ۲ میں درج حق کی بجاآوری کے دوران خاص فرائض اور ذمہ داریاں لاگو ہوں گی لہٰذا اس ضمن میں کچھ پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں لیکن صرف وہ پابندیاں لاگو ہوں گی کہ جن کا قانون میں ذکر ہے اور ضروری سمجھی جائیں گی۔

الف۔ دوسروں کی عزت، شہرت اور حقوق سے متصادم نہ ہوں۔

ب۔ قومی سلامتی، امنِ عامہ، صحت عامہ یا اخلاقِ عامہ متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

شق نمبر ۲ میں مذکورہ آزادئ اظہار کے سلسلے میں معلومات، خیالات او رآراء کو دوسروں تک بغیر کسی مداخلت کے پہنچانا، چاہے کسی بھی مواد پر مبنی ہوں۔ مواد کا غیرجانبدار ہونا، بالفاظ دیگر آزادئ اظہار ہر اساسی اصول کے طور پر کسی رائے، پیغام کی نوعیت کی بنیاد پر نہیں روکا جا سکتا۔

یہ حق نہ صرف نظریات کے مواد اور فراہم کردہ معلومات کو تحفظ دیتا ہے بلکہ اُن ذرائع کو بھی تحفظ دیتا ہے کہ جس کے توسط سے یہ نظریات اور معلومات دوسروں تک منتقل کی جائیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلان نامہ کی رُو سے آزادئ اظہار کی ضمانت ہر ایک شخص کو حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات، اپنی آراء اور اپنے معتقدات چاہے وہ مذاقِ عامہ یا رائے عامہ سے متصادم ہوں، رکھ سکتا ہے اور پھیلا سکتا ہے۔

آزادئ اظہار دراصل وہ بنیادی انسانی حق اور وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعے ادب و فنون لطیفہ ترقی کرتے ہیں

ایشیائی ممالک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کے لیے انٹرنیٹ پر بھی اظہار رائے کی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔

اظہار رائے کے حوالے سے پابندیاں صرف مسلم ممالک تک محدود ہیں جبکہ انڈیا، سری لنکا اور میانمار میں بھی مذہبی اقلیتوں کو سرکاری اور غیر سرکاری عناصر کی جانب سے اظہار رائے کی پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔

ایشیائی ممالک میں مذہبی اقلیتوں اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آواز ریاستی اور غیرریاستی عناصر کی جانب سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایسی کارروائیوں کے لیے قانونی جواز بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں انڈیا میں گائے کے گوشت کھانے یا گائے ذبح کرنے کے شبہے میں شہریوں پر تشدد، بالی وڈ فلموں میں ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں فنکاروں اور فلموں پر پابندی اور انٹرنیٹ پر سیاسی و مذہبی شخصیات کی مبینہ توہین کے الزام میں شہریوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

اسی طرح برما میں روہنگیا مسلمانوں، ویتنام میں عیسائی مبلغوں اور سری لنکا میں مسلمانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک پر اظہار تشویش کیا گیا ہے۔

ہمیں کچھ بولتے، لکھتے یا کسی سے بھی بحث کرتے ہوئے ایک ایک لفظ دھیان سے کہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہیں ہم کسی کی تذلیل تو نہیں کر رہے یا کسی پر تہمت تو نہیں لگا رہے۔ مزید یہ بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ کہیں ہم دوسرے سے سوال اور تنقید کرنے کا حق تو نہیں چھین رہے۔ کہیں کسی کی اظہارِ رائے کی آزادی تو سلب نہیں کر رہے۔

بہرحال جہاں ہمیں اظہارِ رائے اور تنقید کرتے ہوئے حدود کا خیال رکھنا ہوتا ہے وہیں پر کسی دوسرے کی رائے اور تنقید کو بھی ٹھنڈے دماغ سے سننا اور برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ویسے ہمارے ہاں اگر تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ اظہارِ رائے کی آڑ میں تذلیل ہوتی اور تہمتیں لگتی ہیں، وہیں پر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات ”گستاخی ہو گئی“ کی آڑ میں سوال اور تنقید کرنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔ اگر تذلیل اور تہمت سے معاشرے میں بے انتہا بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو دوسری طرف جس معاشرے میں فکر کرنے اور سوال اٹھانے کی حوصلہ شکنی کی جائے تو وہ معاشرہ خود فریبی اور شدید گھٹن کی وجہ سے دم توڑ جاتا ہے۔

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY