قصور میں کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا جانے کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کروا دی گئی۔ تحریک التواء جماعت اسلامی نے اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی۔
تحریکِ التواء میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بچی ٹیوشن پڑھنے کیلئے نکلی تھی اور پھر 4 دن بعد اس کی لاش ملی، معصوم بچی 5 جنوری کو اغواء ہوئی لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومتی مشینری بچی کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی۔ تحریک التواء میں مزید کہا گیا ہے کہ 2015ء میں قصور سکینڈل کا دلخراش واقعہ سب سے نمایاں تھا۔












