پنجاب حکومت نے قصور میں 6 سالہ بچی کے ساتھ ہونے مبینہ ریپ اور اس کے بعد قتل پر تحقیقات کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے تین مزید سینیئر پولیس افسران کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کا حصہ بنادیا۔

وزیرِاعلیٰ ہنجاب نے صوبائی محکمہ انسداد دہشت گردی کو بھی کیس میں علیحدہ تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔

جے آئی ٹی کی سربراہی پنجاب پولیس کے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل (اے آئی جی) ابوبکر خدا بخش اور چار دیگر سینئر حکام جن میں شیخوپورہ کے ریجنل پولیس آفیسر ذوالفقار حمید اور ان کے ساتھی شامل ہیں، کی جانب سے کی جارہی ہے۔

سینیئر حکام نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں زینب کے قاتل کی شناخت کے امور پر بات کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کیس کے حل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ماہر پولیس حکام کو کام پر لگایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے شیخوپورہ کے آر پی او سمیت پنجاب پولیس کی سینیئر قیادت کی قصور میں ان واقعات پر کنٹرول کرنے میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر سینئر افسران کی صورت حال کو قابو کرنے میں نا اہلی کی وجہ سے مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے۔

وزیرِاعلیٰ نے پولیس قیادت پر اپنا اعتماد ظاہر نہ کرتے ہوئے تحقیقات کے دائرہ کار کو بڑھایا اور مزید ماہر پولیس افسران کو تحقیقات کا حکم دیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ کے احکامات کے پیش نظر انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس نے ڈی آئی جی وقاص نظیر اور ڈی آئی جی چوہدری سلطان کو قصور پہنچتے ہوئے اس کیس پر کام کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اسی دوران انہوں نے پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر کو قاتل کی گرفتاری کے لیے علیحدہ تحقیقات کے آغاز کا بھی حکم دے دیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے قصور میں مزید معلومات اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیبات کے لیے دو ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ٹیمیں متاثرہ لڑکی کے تمام قریبی رشتہ داروں کے پروفائل بھی تیار کریں گی۔

حکام کا کہنا تھا کہ 200 سادہ لباس اہلکاروں کو بھی شہر میں تعینات کردیا گیا خصوصی طور پر ان تین تھانوں کی حدود میں جہاں بچوں کے اغوا کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY